’ہماری تیاری مکمل ہے۔ عدالت نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔ آج نہیں تو کل پولیس کے حوالے ہو جائیں گے، جس کے بعد باقاعدہ گرفتاری ظاہر کی جائے گی۔‘
یہ کہنا تھا پشاور پولیس کے ایک افسر کا، جن سے ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں سہیل آفریدی کی باقاعدہ گرفتاری سے متعلق سوال کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی فی الحال محفوظ کسٹڈی میں ہیں، کرپشن پر چارج شیٹ آنی باقی ہے، ثمر بلور
پولیس افسر نے ریڈیو پاکستان کیس میں سہیل آفریدی کی گرفتاری کی نہ تو تردید کی اور نہ ہی تصدیق کی، تاہم بتایا کہ سہیل آفریدی نے اسی کیس میں گرفتار ہونا ہے اور ان کے باہر نکلنے کے امکانات بہت ہی کم ہیں۔
انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس وقت ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں پولیس کی تمام تر تیاریاں مکمل ہیں۔ پولیس نے انسداد دہشتگردی عدالت کے سامنے مؤقف اپنایا تھا کہ مزید تفتیش کے لیے ملزمان سے پوچھ گچھ ضروری ہے، جس کی بنا پر عدالت نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے، جن میں صوبے کے غیر فعال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا نام بھی شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری ہونے سے پہلے تک سہیل آفریدی پشاور میں کسی دوسرے کیس میں مطلوب نہیں تھے۔ 11 اکتوبر کو گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد انہیں وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹا کر حفاظتی تحویل میں لیا گیا تھا اور وہ تاحال حکومتی تحویل میں ہیں۔
ان کے مطابق پشاور کی مقامی انسداد دہشتگردی عدالت کی جانب سے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد پشاور پولیس انہیں تفتیش کے لیے گرفتار کرنا چاہتی ہے۔
’سہیل آفریدی سے جلد تفتیش ہو گی‘
متعلقہ تھانے کے ایک اہلکار نے بتایا کہ عدالتی وارنٹ گرفتاری کے بعد تفتیشی ٹیم نے عدالتی حکم کی کاپی حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا تھا، جس پر باقاعدہ مشاورت بھی ہوئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ امکان ہے کہ جلد سہیل آفریدی تک تفتیش کے لیے پولیس کو رسائی مل جائے گی، جس کے بعد پولیس کی جانب سے ریڈیو پاکستان کیس میں ان کی باقاعدہ گرفتاری ظاہر کی جائے گی۔
پشاور پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ سہیل آفریدی کی بازیابی کا کیس بھی پشاور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے، جس کی اگلی سماعت 3 نومبر کو ہو گی۔
’اس وقت سہیل آفریدی کے آزاد ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔ ریڈیو پاکستان کیس کے علاوہ دیگر کیسز پر بھی کام ہو رہا ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی کے دورِ وزارتِ اعلیٰ میں بھی ریڈیو پاکستان کیس کی تفتیش جاری تھی اور ویڈیوز کی فرانزک اور نادرا سے تصدیق بھی ان کے دور میں ہوئی تھی۔
ان کے مطابق موجودہ سیٹ اپ بننے کے بعد سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ ریڈیو پاکستان کیس کی تحقیقات میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ 9 مئی کے توڑ پھوڑ کے مقدمات کو بھی دوبارہ کھولا جا رہا ہے، جنہیں سہیل آفریدی کے دور میں واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
’سہیل آفریدی کے گرد گھیرا تنگ ہے اور ریڈیو پاکستان کیس میں کافی پیشرفت بھی ہوئی ہے۔‘
ریڈیو پاکستان کیس میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی ہے؟
پی ٹی آئی کے 9 مئی کے احتجاج کے دوران مشتعل مظاہرین نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے سامنے واقع ریڈیو پاکستان کی عمارت کو نشانہ بنایا اور اندر داخل ہو کر توڑ پھوڑ کرنے کے بعد عمارت کو آگ لگا دی تھی۔
پشاور پولیس نے واقعے کی ایف آئی آر درج کرکے تفتیش شروع کی، تاہم 2024 کے عام انتخابات کے بعد کیس کی تفتیش سست روی کا شکار رہی۔
تاہم 2026 میں ریڈیو پاکستان نے کیس کی پیروی کے لیے نجی وکیل کی خدمات حاصل کیں اور عدالتی احکامات پر پشاور پولیس نے ویڈیوز اور تصاویر کی تصدیق کے لیے پنجاب فرانزک لیبارٹری اور نادرا کو ارسال کیں، جن میں پہلی بار اس وقت کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، صوبائی وزیر مینا خان آفریدی، سابق صوبائی وزرا کامران بنگش، تیمور جھگڑا اور دیگر پارٹی رہنماؤں کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔
فرانزک اور نادرا کی رپورٹ کے بعد کیس کی سماعت میں بھی تیزی آئی اور اب باقاعدہ طور پر عدالت نے نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کیے ہیں، جبکہ گرفتاری سے بچنے کے لیے تیمور جھگڑا اور کامران بنگش نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی ہے، جبکہ مینا خان اور دیگر رہنما روپوش ہیں اور سہیل آفریدی حکومتی تحویل میں ہیں۔
سہیل آفریدی کو کہاں رکھا گیا ہے، شاہی مہمان خانہ کہاں واقع ہے؟
خیبرپختونخوا کے نئے سیٹ اپ میں مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے تصدیق کی ہے کہ سہیل آفریدی حکومتی تحویل میں ہیں اور ابھی تک کسی کیس میں گرفتار نہیں ہیں۔
تاہم انہوں نے بتایا کہ ان کے خلاف مختلف کیسز کی تحقیقات ہورہی ہیں، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ انہیں کسی کیس میں گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ثمر ہارون بلور نے یہ نہیں بتایا کہ سہیل آفریدی کو کہاں رکھا گیا ہے، تاہم قوی امکان ہے کہ انہیں پشاور کے گورنر ہاؤس کے قریب واقع شاہی مہمان خانے میں رکھا گیا ہے۔
پشاور ہائیکورٹ میں بھی ان کی بازیابی کے لیے دائر درخواست کی سماعت کے دوران شاہی مہمان خانے کی نشاندہی ہوئی تھی، تاہم ابھی تک حکومتی سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
ریڈیو پاکستان کیس اتنا اہم کیوں ہے؟
پولیس حکام کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے دورِ اقتدار میں پولیس حکام کے ساتھ ایک اجلاس میں بتایا تھا کہ ان کے خلاف ریڈیو پاکستان کیس بنایا جا رہا ہے اور اس حوالے سے پولیس پر دباؤ ڈالنے کا ذکر بھی کیا تھا۔ ان کے قریبی ساتھیوں کے مطابق وہ ریڈیو پاکستان کیس کو لے کر فکر مند تھے۔
ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گگیانی کے مطابق ریڈیو پاکستان حملہ کیس انتہائی اہم نوعیت کا ہے اور حکومت اس کیس کو سنجیدگی سے آگے لے جا رہی ہے۔
ان کے مطابق پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں اس کیس کی تحقیقات کے دوران پولیس کو مشکلات کا سامنا تھا، جس کی وجہ سے کئی سال تاخیر ہوئی۔
مزید پڑھیں: اپنے انتخابی حلقے کے لوگ بھی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے نالاں کیوں؟
انہوں نے بتایا کہ عدالت شواہد اور دلائل کی بنیاد پر فیصلہ دیتی ہے اور اس کیس میں فرانزک اور نادرا کی رپورٹ سے اہم شواہد حاصل ہوئے ہیں۔
ریڈیو پاکستان کے وکیل نے سپریم کورٹ میں نور مقدم کیس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس کیس میں ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر سزا ہوئی، جبکہ ریڈیو پاکستان کیس میں بھی ڈیجیٹل شواہد کی فرانزک جانچ مکمل ہو چکی ہے۔









