پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے بینکوں کے کنسورشیم (ایس سی او آئی بی سی) کی 2026-27 کے لیے چیئرمین شپ سنبھال لی ہے، جبکہ حبیب بینک لمیٹڈ کے چیئرمین سلطان علی الانا کو کنسورشیم کا سربراہ مقرر کردیا گیا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان نے پیر کو باضابطہ طور پر یہ ذمہ داری سنبھالی۔ سلطان علی الانا اس مدت کے دوران کنسورشیم کی سربراہی کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی بڑی عالمی کامیابی، 74 سال بعد آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے بورڈ آف گورنرز کی صدارت مل گئی
وزارت خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پیشرفت اسی عرصے کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی پاکستان کو ملنے کے ساتھ بھی مطابقت رکھتی ہے، جو علاقائی تجارت، سرمایہ کاری، مالیاتی روابط اور اقتصادی تعاون کے فروغ میں پاکستان کے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
وزارت خزانہ نے سلطان علی الانا کو نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری مضبوط بنانے، سرحد پار تجارت و سرمایہ کاری کو سہولت فراہم کرنے اور علاقائی انضمام و مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
Pakistan Assumes Chairmanship of SCO Interbank Consortium
IslamabadPakistan has assumed the Chairmanship of the Shanghai Cooperation Organisation Interbank Consortium (SCO-IBC) for 2026–2027, with Mr. Sultan Ali Allana taking over as Chairman of the Consortium.
This coincides with Pakistan’s Chairmanship of the Shanghai Cooperation Organisation (SCO) for the same period, underscoring the country’s growing role in promoting regional trade, investment, financial connectivity and economic cooperation.
The Ministry of Finance congratulates Mr. Allana on assuming this important responsibility and reaffirms Pakistan’s commitment to strengthening economic partnerships among SCO member states, facilitating cross-border trade and investment, and advancing regional integration and shared prosperity.
— Ministry of Finance, Government of Pakistan (@Financegovpk) November 2, 2026
شنگھائی تعاون تنظیم کا بینکوں کا کنسورشیم رکن ممالک کے درمیان مالیاتی تعاون کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ اس کا مقصد کثیرالجہتی اداروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے پائیدار ترقی کو فروغ دینا، علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا اور سرحد پار بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لیے نئے طریقہ کار تلاش کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایس سی او نیشنل کوآرڈینیٹرز کا پہلا اجلاس، پاکستان نے علاقائی ترقی کا شاندار روڈ میپ پیش کر دیا، دفتر خارجہ
پاکستان نے ستمبر میں شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی سنبھالنے کے بعد تنظیم کے سربراہان مملکت کی کونسل کا آئندہ اجلاس بھی ملک میں منعقد کرنا ہے۔ اس پیش رفت کو علاقائی تنظیم کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے روابط کا ایک اور قدم قرار دیا جارہا ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ 2017 میں شنگھائی تعاون تنظیم کی مکمل رکنیت حاصل کرنے کے بعد پاکستان کا تنظیم میں کردار مبصر سے فعال رکن کی حیثیت اختیار کرچکا ہے، جو کثیرالجہتی تعاون اور علاقائی اشتراک کے لیے پاکستان کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
اسحاق ڈار نے پاکستان کی آئندہ سربراہی کو علاقائی اور عالمی سطح پر ملک کی قیادت پر اعتماد کا مظہر بھی قرار دیا ہے۔
پاکستان اس سے قبل اکتوبر 2024 میں اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان حکومت کا اجلاس منعقد کرچکا ہے، جبکہ اس وقت تنظیم کے علاقائی انسداد دہشتگردی ڈھانچے کی 2025-26 کے لیے صدارت بھی پاکستان کے پاس ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی قیادت میں شنگھائی تعاون تنظیم مزید مضبوط ہوگی، چین
اس کے علاوہ پاکستان تنظیم کے غربت میں کمی سے متعلق ورکنگ گروپ کی مستقل سربراہی بھی کرتا ہے، جس کا مقصد خطے میں عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کو فروغ دینا ہے۔










