پاکستان کی بڑی عالمی کامیابی، 74 سال بعد آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے بورڈ آف گورنرز کی صدارت مل گئی

جمعہ 16 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کو 74 سال بعد انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک گروپ کے بورڈ آف گورنرز کی صدارت مل گئی ہے، جس کے تحت وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ 2027 میں واشنگٹن میں ہونے والے سالانہ اجلاس کی صدارت کریں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بینکاک میں 16 اکتوبر کو سالانہ اجلاس کے دوران اس تاریخی تقرر کا باضابطہ اعلان کیا گیا، تاہم یہ عہدہ بنیادی طور پر سفارتی اور باضابطہ کارروائی تک محدود ہے اور اس سے قرضوں کی منظوری پر کوئی اضافی اختیار حاصل نہیں ہوگا۔

پاکستان نے اس سے قبل آخری بار 1953 میں یہ اہم منصب حاصل کیا تھا، جب اس وقت کے وزیر خزانہ و اقتصادی امور محمد علی نے واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور انٹرنیشنل بینک فار ریکنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ (آئی بی آر ڈی) کے 8 ویں سالانہ اجلاس کی صدارت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:اے آئی یورپی معیشت کی پیداوار بڑھا سکتی ہے مگر معاشی عدم مساوات کا خطرہ بھی ہے، آئی ایم ایف

جنوبی ایشیا میں سب سے پہلے بھارت نے 1950 میں پیرس میں اپنے وزیر خزانہ چنتامن ڈی دیشمکھ کی قیادت میں یہ صدارت کی تھی، جس کے بعد 1953 میں پاکستان، 1968 میں سری لنکا (سابقہ سیلون) اور 1999 میں نیپال یہ ذمہ داری نبھا چکے ہیں۔

صدارت کے اختیارات اور اختیارات کی حقیقت

یہ عہدہ سنبھالنے سے پاکستان کے ووٹنگ کے حقوق، قرضوں تک ترجیحی رسائی یا آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے پروگرامز کی منظوری کے اختیارات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

عالمی اداروں کے تمام تر عملی اور عملیاتی فیصلوں کے اختیارات ان کے اپنے ایگزیکٹو بورڈز کے پاس ہوتے ہیں، جبکہ بورڈ آف گورنرز کا چیئرمین صرف سالانہ اجلاس کے امور اور انتظامات دیکھتا ہے۔

عالمی بینک کے بائی لاز کے سیکشن 5(ڈی) اور مارچ 2023 کے ضابطہ اخلاق کے مطابق چیئرمین، بینک کے صدر اور آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ مل کر اجلاس کی کارروائی اور اسپیکرز کی ترتیب طے کرتا ہے۔

چیئرمین کے انتخاب کا قانون اور طریقہ کار

عالمی بینک کے بائی لاز کے سیکشن 6 (اے) اور آئی ایم ایف کے سیکشن 7 کے تحت ہر سالانہ اجلاس میں ایک گورنر کو چیئرمین منتخب کیا جاتا ہے جو اگلے سالانہ اجلاس تک اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا ہے۔

ان قوانین کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ صدارت کی باری صرف بڑے اور امیر ممالک تک محدود نہ رہے بلکہ یہ تمام رکن اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان باری باری گھومتی رہے۔

مزید پڑھیں:آئی ایم ایف کی وارننگ، حکومت نے پیٹرول کا کروز میزائل داغ دیا، حقائق کیوں چھپائے گئے؟

آئی بی آر ڈی کے آرٹیکلز آف ایگریمنٹ کا آرٹیکل 5، سیکشن 2 (اے) بھی بورڈ کے گورنروں میں سے ہی چیئرمین کا انتخاب کرنے کی قانوناً توثیق کرتا ہے۔

کون اہل ہے؟ وزرا اور گورنرز کی تقسیم

عالمی اداروں کے قواعد کے مطابق صدارت کے لیے صرف وزیر خزانہ ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ رکن ملک کا مقرر کردہ کوئی بھی گورنر اس عہدے کے لیے منتخب ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں احد خان چیمہ عالمی بینک میں ملک کے گورنر ہیں کیونکہ رولز آف بزنس کے تحت اقتصادی امور ڈویژن ورلڈ بینک کو دیکھتا ہے جبکہ فنانس ڈویژن آئی ایم ایف سے متعلق امور سنبھالتا ہے۔

آئی ایم ایف کے بورڈ آف گورنرز میں پاکستان کی نمائندگی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کرتے ہیں، جبکہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی ان بورڈز میں عدم موجودگی کے باوجود ان کا کلیدی معاشی کردار بدستور برقرار ہے۔

وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک دونوں مل کر سالانہ اجلاسوں کے دوران عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ ملک کے تمام معاشی اور مالیاتی مذاکرات کی قیادت کرتے ہیں۔

پاکستان کے لیے عالمی سفارتی اہمیت

پاکستان 4 سے 9 اکتوبر 2027 تک واشنگٹن میں ہونے والے سالانہ اجلاس کی صدارت کرے گا، جس سے عالمی برادری میں ملک کی سفارتی اہمیت اور وقار میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔

یہ پلیٹ فارم پاکستان کو ترقی پذیر ممالک کی مالیاتی ضروریات، نجی سرمائے کی فراہمی اور عالمی معاشی پالیسیوں کی تدوین میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کا بہترین موقع فراہم کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp