ٹرمپ اقتدار کے آخری مرحلے میں مزید جارحانہ ہوسکتے ہیں، تجزیہ کاروں کا انتباہ

منگل 3 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے ابتدائی عرصے میں سیاسی اور خارجہ محاذ پر غیر معمولی ہلچل دیکھنے میں آئی ہے، تاہم منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کانگریس کا کنٹرول کھو دیتی ہے تو ٹرمپ کے اقتدار کے آخری 2 سال مزید کشیدہ ہوسکتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ٹرمپ کے لیے قانون سازی میں رکاوٹیں، تحقیقات اور ممکنہ مواخذے جیسے چیلنجز پیدا کرسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں وسط مدتی انتخابات آج ، ٹرمپ کی کانگریس پر گرفت کمزور ہونے کا امکان

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی طور پر کمزور صدر بننے کے بجائے ٹرمپ مزید جارحانہ اور انتقامی رویہ اختیار کرسکتے ہیں۔

جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے اسکول آف میڈیا اینڈ پبلک افیئرز کے ڈائریکٹر پیٹر لوگے نے کہا کہ ٹرمپ خاموشی سے شکست تسلیم کرنے والے نہیں۔

’ماضی میں جب بھی انہیں سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، انہوں نے زیادہ شدت سے ردعمل دیا اور مقابلہ جاری رکھا۔‘

ٹرمپ پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ اگر ڈیموکریٹس کانگریس کے ایک یا دونوں ایوانوں میں کامیاب ہوئے تو وہ ان کے قانون سازی کے ایجنڈے کو ویٹو کردیں گے۔

مزید پڑھیں:

انہوں نے ٹائم میگزین کو انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ ڈیموکریٹس ان کے خلاف تحقیقات کریں گے تو وہ بھی ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔

خدشہ ہے کہ وہ محکمہ انصاف کے ذریعے اپنے مخالفین کے خلاف تحقیقات کا راستہ اختیار کرسکتے ہیں۔

ایران اور خارجہ پالیسی کے چیلنجز

تجزیہ کاروں کے مطابق خارجہ پالیسی وہ شعبہ ہے جہاں کانگریس میں اکثریت کھونے کے باوجود امریکی صدر کے اختیارات نسبتاً زیادہ برقرار رہتے ہیں۔

ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا فیصلہ کرسکتے ہیں، تاہم انہوں نے انتخابات سے قبل نئے مذاکرات کے ذریعے معاہدے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔

بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے ریان ہاس کے مطابق ٹرمپ نہیں چاہتے کہ ان کی سیاسی میراث ایک جنگ پسند صدر کے طور پر قائم ہو۔

’وہ چاہتے ہیں کہ انہیں ایسا رہنما سمجھا جائے جس نے امریکا کو مضبوط بنایا۔‘

دوسری جانب ٹرمپ یوکرین جنگ ختم کرانے کے لیے روس اور یوکرین پر معاہدے کے لیے دباؤ جاری رکھ سکتے ہیں۔

چین کے صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ممکنہ ملاقات بھی رواں ماہ متوقع ہے۔ امریکا کی جانب سے نیٹو اور مغربی اتحادیوں کے ساتھ دفاعی وابستگیوں میں مزید کمی کا امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔

2028 کے انتخابات اور سیاسی میراث

ٹرمپ کے آئندہ منصوبوں میں 2028 کے صدارتی انتخابات بھی اہم ہوں گے، نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو ممکنہ جانشینوں میں شامل ہیں، تاہم ٹرمپ نے اب تک کسی کی کھل کر حمایت نہیں کی۔

امریکن یونیورسٹی کے پروفیسر ایلن لِچٹ مین کے مطابق ٹرمپ سیاسی جانشین کے انتخاب میں کنگ میکر کا کردار ادا کرکے اپنی اہمیت برقرار رکھ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل جعلی سروے بے نقاب، انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھ گئے

ادھر ٹرمپ واشنگٹن میں اپنی شناخت چھوڑنے کے لیے تعمیراتی اور تزئین و آرائش کے منصوبوں پر بھی توجہ دے رہے ہیں، انتخابی مہم کے اختتامی خطاب میں انہوں نے لنکن میموریل ریفلیکٹنگ پول کی تزئین و آرائش سمیت شہر کو خوبصورت بنانے کے منصوبوں کا ذکر کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ریپبلکن پارٹی کی ممکنہ انتخابی شکست ٹرمپ کے لیے صدارت کے آخری 2 برس سیاسی مزاحمت، خارجہ پالیسی اور اپنی سیاسی میراث کے تحفظ کا بڑا امتحان بنا سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شہباز شریف کا آئی کیو آئزک نیوٹن کے قریب، حذیفہ رحمان نے سوشل میڈیا پر پنڈورا باکس کھول دیا

انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر ایم کیو ایم پاکستان کو شوکاز، انتخابی نشان خطرے میں پڑگیا

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا دورہ اٹک، 23 ارب روپے کے 59 روڈز اور 127 میگا ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح

بالی ووڈ اداکار تشار کپور بھی بھتہ خوروں کے نشانے پر، 5 کروڑ روپے نہ دینے پر سنگین نتائج کی دھمکی

خیبر پختونخوا: پولیو ڈیوٹی پر مامور پولیس ٹیم پر حملہ، 2 اہلکار شہید، 4 پولیو ورکرز اغوا

ویڈیو

جھڈو کے 208 سرکاری اسکولوں میں صرف 270 اساتذہ: خستہ حال جھونپڑوں میں پڑھائی، والدین کا بااختیار انتظامی یونٹ کا مطالبہ

کشمور کے 12 لاکھ شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے، کروڑوں روپوں کے فلٹر پلانٹس بند، نئے صوبے بنانے کا مطالبہ

وسطی بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کی نئی راہ، خضدار میں 2 ارب 84 کروڑ روپے سے جنرل یونیورسٹی قائم

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا