پاکستان کا پہلا بائیو ماس توانائی کا تجرباتی پلانٹ سندھ کے ضلع سجاول میں فعال ہوگیا، منصوبے کا مقصد دیہی آبادی کو توانائی کے متبادل ذرائع فراہم کرنے کے ساتھ جنگلات کا تحفظ اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانا ہے۔
پلانٹ پنّہ ریزروڈ فاریسٹ میں قائم کیا گیا ہے، جسے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کے اشتراک سے شروع کیا ہے۔ منصوبے کو عالمی ماحولیاتی سہولت (جی ای ایف) کی مالی معاونت حاصل ہے۔
یو این ڈی پی اور حکومت سندھ نے مشترکہ طور پر پلانٹ کا افتتاح کیا۔ یہ منصوبے کے تحت قائم کیے جانے والے چار تجرباتی مراکز میں پہلا ہے، جہاں لکڑی کے حیاتیاتی مادے سے توانائی پیدا کرنے کی قابلِ توسیع ٹیکنالوجی کا عملی مظاہرہ کیا جائے گا۔
بائیو ماس منصوبہ 5 سالہ پروگرام ہے، جس کے لیے 35 لاکھ ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے تحت سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں پائیدار بائیو ماس ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جائے گا تاکہ دیہی روزگار کے مواقع پیدا کرنے، صاف توانائی کے استعمال اور جنگلات پر دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکے۔
یو این ڈی پی کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر سیموئل رزک کے مطابق پاکستان کو دیہی علاقوں کی توانائی ضروریات پوری کرنے اور جنگلات کے تحفظ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ مقامی طور پر دستیاب زرعی اور جنگلاتی باقیات کو صاف ایندھن اور معاشی مواقع میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے بینکوں کے کنسورشیم کی صدارت سنبھال لی
یو این ڈی پی کے مطابق پنّہ ریزروڈ فاریسٹ میں جنگلات اور زرعی باقیات سے ایندھن کی گولیاں (پیلیٹس) تیار کرنے، مقامی سطح پر پودوں کی نرسریاں قائم کرنے اور کم ایندھن استعمال کرنے والے چولہے متعارف کرانے کے اقدامات بھی کیے جارہے ہیں، جن سے پائیدار جنگلاتی انتظام اور مقامی شجرکاری کو فروغ ملے گا۔









