خیبر پختونخوا میں جاری انسدادِ پولیو مہم کے دوران پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں پر حملے اور پولیو ورکرز کے اغوا کے 2 مختلف واقعات میں 2 پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوگیا، جبکہ 4 پولیو ورکرز کو نامعلوم مسلح افراد اغوا کرکے لے گئے۔
پولیس کے مطابق پہلا واقعہ قبائلی ضلع مہمند میں پیش آیا، جہاں تحصیل پنڈیالی کے علاقے میں پولیس ٹیم کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب پولیو ڈیوٹی پر مامور اہلکار مقامی چوکی سے مرکزِ صحت جا رہے تھے، جہاں انہیں پولیو فیلڈ ٹیم کی سیکیورٹی پر تعینات کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں رواں سال پولیو کا آٹھواں کیس رپورٹ، خیبر میں 13 ماہ کی بچی وائرس کا شکار
پولیس کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں 3 اہلکار زخمی ہوگئے، زخمیوں میں سے 2 اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ تیسرے زخمی اہلکار کو علاج کے لیے مقامی اسپتال منتقل کردیا گیا۔
ضلع مہمند کی تحصیل پندیالی کے علاقے یخ ڈنڈ، تمانزئی میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔ pic.twitter.com/DhFFVs0AdK
— Saeed wazir (@Saeedwazir33) November 3, 2026
پولیس حکام نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی اضافی نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا۔
پولیس کے مطابق علاقہ دور افتادہ ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
ضلع ٹانک میں 4 پولیو ورکرز اغوا
دوسرا واقعہ ضلع ٹانک میں پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے 4 پولیو ورکرز کو مبینہ طور پر اغوا کرلیا۔
ٹانک پولیس کے مطابق پولیو ورکرز بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا رہے تھے کہ اس دوران مسلح افراد نے انہیں اسلحے کے زور پر اغوا کرلیا۔
مزید پڑھیں: کیا بلوچستان پولیو سے پاک ہوگیا؟
ڈی پی او ٹانک نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ ایک دور افتادہ یونین کونسل میں پیش آیا۔
ان کے مطابق مسلح افراد پولیو ورکرز کو نامعلوم مقام پر لے گئے ہیں، جبکہ ان کی بحفاظت بازیابی کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔











