اسرائیلی فوج کی سابق ترجمان یونٹ کی اہلکار ایلیت کروئزر نے اعتراف کیا ہے کہ میڈیا کو دی جانے والی معلومات میں ردوبدل کیا جاتا تھا، بے گناہ فلسطینیوں کو بھی دہشتگرد قرار دیا جاتا اور فوجی کارروائیوں کے حق میں عالمی حمایت حاصل کرنے کے لیے بیانات تیار کیے جاتے تھے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان کے دفتر کی سابق اہلکار ایلیت کروئزر نے انکشاف کیا ہے کہ فوج نے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی کارروائیوں سے متعلق حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ خود بھی میڈیا کو فراہم کی جانے والی معلومات میں ردوبدل کرنے کے عمل کا حصہ رہی ہیں۔
ایلیت کروئزر نے امریکی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ فوجی بیانات میں بے گناہ فلسطینیوں کو بھی دہشتگرد قرار دیا جاتا تھا، جبکہ مختلف سامعین اور مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے بیانات تیار کیے جاتے تھے۔ ان کے مطابق اسرائیلی عوام کے سامنے فوج کی ساکھ اور اس پر اعتماد برقرار رکھنا ترجیح تھی، جبکہ عوام کے جاننے کے حق کو ثانوی حیثیت حاصل تھی۔ بین الاقوامی سطح پر فوجی کارروائیوں کو جائز ثابت کرنا اور ان کے لیے حمایت حاصل کرنا بنیادی مقصد تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ایک ہی حملے میں درجنوں افراد کی ہلاکت کی اطلاع دینے کے بعد معمول کے مطابق یہ جملہ بھی شامل کیا جاتا تھا کہ غیر متعلقہ شہریوں کو پہنچنے والے نقصان پر افسوس ہے۔ کروئزر کے بقول وہ کبھی ناانصافی کے سامنے خاموش رہنے کی عادی نہیں تھیں، لیکن فوج میں ان سے اسی ناانصافی کی تشہیر اور دفاع کا کام لیا جا رہا تھا۔
کروئزر نے بتایا کہ وہ 3 سال قبل مذہبی بنیادوں پر حاصل فوجی چھوٹ ختم کروا کر جنگ کے دوران فوج میں شامل ہوئی تھیں، کیونکہ اس وقت ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے ملک کے دفاع میں حصہ لے رہی ہیں۔ تاہم اب انہوں نے اسرائیلی تنظیم بریکنگ دی سائلنس میں ترجمان کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فوجی زیادتیوں سے متعلق سابق اسرائیلی فوجیوں کی گواہیاں سامنے لاتی ہے۔ انہوں نے جنگ میں خدمات انجام دینے والے دیگر فوجیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ ناانصافیوں پر خاموش نہ رہیں۔
دوسری جانب غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جنگ میں اب تک 74 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 75 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ غزہ کا تقریباً 90 فیصد شہری بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔











