سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات نے فاٹا پاٹا ٹیکس استثنیٰ اسکیم کے مبینہ غلط استعمال اور اربوں روپے کے ممکنہ ٹیکس واجبات کی وصولی میں تاخیر پر ایف بی آر کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے دو روز میں مکمل ریکارڈ طلب کرلیا۔
مزید پڑھیں:پاکستان اور بحرین کا علاقائی سلامتی اور انسدادِ منشیات تعاون بڑھانے پر اتفاق
سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیرِ صدارت اجلاس میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ فاٹا پاٹا ٹیکس استثنیٰ اسکیم کے تحت قریباً ایک ہزار 120 ارب روپے مالیت کا درآمدی سامان زیرِ جانچ ہے۔ حکام کے مطابق 389 ارب روپے مالیت کے سامان سے متعلق ریکارڈ اور کنزمپشن سرٹیفکیٹس کی تفصیلات دستیاب ہیں، جبکہ باقی درآمدی سامان کے استعمال اور ٹیکس واجبات سے متعلق مزید معلومات درکار ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ 108 کمپنیوں کے لیے مجموعی طور پر 223 کنزمپشن سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔ کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی مالیت کی درآمدات کے باوجود متعلقہ کمپنیوں، سامان کے استعمال، فیکٹریوں کی پیداوار اور ٹیکس ادائیگیوں کا مکمل ریکارڈ کیوں دستیاب نہیں۔
کنوینر کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ایک طرف پاکستان مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینے پر مجبور ہے، دوسری جانب قومی خزانے کے اربوں روپے کے ممکنہ ٹیکس واجبات کی وصولی میں تاخیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی خزانے کی رقم واجب الادا ہے تو اس کی وصولی کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے؟ ٹیکس وصولی میں غفلت اور تاخیر کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ قومی خزانے کا پیسہ ہر صورت واپس لایا جائے گا، وہ سینیٹ میں رہیں یا نہ رہیں، ملک کا پیسہ واپس لانے کی کوشش جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تحقیقات میں ٹیکس چوری یا مالی بے ضابطگی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی اور واجبات کی وصولی یقینی بنائی جائے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایف بی آر نے مجموعی طور پر 512 کمپنیوں کو نوٹسز جاری کیے، جن میں سے بعض نے مکمل جبکہ متعدد نے جزوی ریکارڈ فراہم کیا۔ 58 کمپنیوں کو بھیجے گئے خطوط واپس موصول ہوئے یا انہوں نے وصول کرنے سے انکار کیا۔ حکام کے مطابق 35 رِٹ پٹیشنز پشاور ہائیکورٹ میں دائر کی گئی ہیں، جبکہ 174 مستفید کمپنیوں نے ایف بی آر کی انکوائری یا کارروائی رکوانے کے لیے عدالتی ریلیف حاصل کرنے کی غرض سے رجوع کیا ہے۔
ایف بی آر کے نمائندے نے کمیٹی کو بتایا کہ متعلقہ ٹیکس دہندگان کی دستاویزات اور ڈیکلیریشنز کی تصدیق کے لیے قانونی طریقۂ کار موجود ہے۔ فراڈ یا ٹیکس عدم ادائیگی کا شبہ ہونے پر کمپنیوں کو آڈٹ کے لیے منتخب کرکے ریکارڈ کی جانچ کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حتمی ریونیو نقصان اور قابلِ وصول رقم کا تعین آڈٹ مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
اس وضاحت پر سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف آڈٹ جاری ہونے کا بیان کافی نہیں، ایف بی آر یہ بھی بتائے کہ اب تک کتنی کمپنیوں کا ریکارڈ موصول ہوا، کتنے معاملات کی جانچ مکمل ہوئی اور ممکنہ واجبات کی وصولی کے لیے کیا عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایف بی آر ٹیکس وصولی کے معاملے میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہا اور وزیراعظم کو غلط بریفنگ دی جا رہی ہے۔
کمیٹی نے ہدایت کی کہ گزشتہ اجلاس میں نشاندہی کی گئی 20 بڑی کمپنیوں کے کنزمپشن سرٹیفکیٹس، درآمدی ریکارڈ، کسٹمز دستاویزات، بینک اسٹیٹمنٹس اور متعلقہ خط و کتابت پیش کی جائے۔ حکام سے یہ بھی کہا گیا کہ سرٹیفکیٹس کے اجرا کے وقت بجلی و گیس کے بلوں، بینک اسٹیٹمنٹس، کاروباری ریکارڈ اور ملازمین کی تفصیلات سمیت قانونی شرائط پر عمل درآمد کی تصدیق کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ سرٹیفکیٹس کے اجرا کے طریقۂ کار کے تحت کمپنیوں کو درآمدی سامان کی مالیت کے مساوی ادائیگی یا پے آرڈر کسٹمز حکام کے پاس جمع کرانا ہوتا ہے۔ کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ اگر اس عمل کے لیے واضح قانونی شرائط موجود ہیں تو دستاویزات کی جانچ پڑتال اور ان پر عمل درآمد یقینی کیوں نہیں بنایا گیا۔
ایف آئی اے کی جاری تحقیقات کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی نے ایف بی آر اور ایف آئی اے کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ اگر کسی کمپنی یا اہلکار کے خلاف قانون شکنی یا مالی بے ضابطگی کے شواہد سامنے آئیں تو مکمل تحقیقات کے بعد قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر 400 سے 500 ارب روپے کے ٹیکس یا جرمانوں کا معاملہ زیرِ بحث ہے، تاہم حتمی رقم کا تعین مستند ریکارڈ اور قانونی جانچ پڑتال کے بعد کیا جائے۔
کمیٹی نے متعلقہ کمپنیوں کے مالکان، کاروباری سرگرمیوں اور انتظامی ڈھانچے کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔ اجلاس میں خوردنی تیل، گھی، اسٹیل، فوڈ آئٹمز، پولیمر اور چائے کی درآمدات سے وابستہ کمپنیوں کا معاملہ زیرِ غور آیا۔ حکام کو ہدایت کی گئی کہ کمپنیوں کے باہمی روابط اور عدالتی درخواستوں سمیت تمام متعلقہ پہلوؤں کا دستاویزی شواہد کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے۔
اجلاس میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران تقریباً 65 ارب روپے مالیت کی 20 درآمدی انٹریز کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا، جن میں 20 گڈز ڈیکلریشنز اور 19 فیکٹریوں کا ذکر کیا گیا۔ کمیٹی نے ان درآمدات، سامان کے استعمال اور متعلقہ سرٹیفکیٹس کی قانونی حیثیت کی جانچ کرکے 9 نومبر تک جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
کمیٹی نے متعلقہ حکام کو 12 نومبر کو پشاور ہائیکورٹ میں متوقع سماعت سے قبل مکمل ریکارڈ اور جامع جواب تیار کرنے کا بھی حکم دیا۔ حکام کو ہدایت کی گئی کہ کمپنیوں کے نام، مالکان، درآمدی سرگرمیوں، نوٹسز کی ترسیل اور زیرِ سماعت مقدمات کی تفصیلات دو روز میں کمیٹی کو فراہم کی جائیں۔
اجلاس میں ایف بی آر کی مجموعی کارکردگی اور بعض افسران کی ستارۂ امتیاز کے لیے نامزدگیوں کا جائزہ لینے کی ہدایت بھی کی گئی۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سرکاری اعزازات کے لیے میرٹ، شفافیت اور قابلِ پیمائش کارکردگی کو بنیاد بنایا جانا چاہیے، جبکہ قومی خزانے کے تحفظ اور ٹیکس واجبات کی وصولی میں افسران کے کردار کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
مزید پڑھیں:انسدادِ منشیات فورس کی ملک گیر کارروائیاں: 365 کلو سے زائد منشیات برآمد، 8 ملزمان گرفتار
انہوں نے واضح کیا کہ کمیٹی کا مقصد کسی ادارے کے قانونی دائرۂ اختیار میں مداخلت نہیں بلکہ قومی خزانے کے تحفظ کے لیے متعلقہ اداروں کو ان کی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات شفاف انداز میں مکمل کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین ہو اور واجب الادا ٹیکس کی وصولی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ قومی خزانے کے پیسے اور عوامی وسائل کے تحفظ پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔











