قائم مقام امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات اب حتمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آج وزارتِ خارجہ میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ ملاقات کا فائنل راؤنڈ منعقد ہوا، جو کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات کے تناظر میں آگے بڑھایا گیا۔ مذاکرات کے بعد اپنی ٹیم کو تمام تر پیشرفت سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
لیاقت بلوچ نے پریس کانفرنس میں مذاکرات کے اہم نکات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ آج کی نشست میں بنیادی طور پر 4 اہم نکات زیرِ بحث ائے، جن میں پیٹرولیم لیوی کا بتدریج خاتمہ اور عوامی ریلیف پیکیج سرِ فہرست تھے۔
یہ بھی پڑھیے حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پیٹرولیم لیوی سے متعلق کیا طے ہوا؟، وزیراعظم ہاؤس سے تفصیلات جاری
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پبلک ٹرانسپورٹ، 800 سی سی سے بڑی گاڑیوں، 100 سی سی گاڑیوں اور بالخصوص زرعی شعبے کے لیے ریلیف کا مطالبہ کیا۔ حکومت نے 100 سی سی گاڑیوں اور زرعی شعبے کو ریلیف دینے کی تجاویز پر اتفاق کر لیا ہے۔
لیاقت بلوچ نے نشاندہی کی کہ آئل ریفائنریوں کو بے تحاشا اور اندھے منافع کمانے کی آزادی دی گئی ہے جس پر قابو پانا ضروری ہے۔
قائم مقام امیر جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ عوام کو ملنے والا ریلیف جماعت اسلامی کی تحریک اور احتجاج کا نتیجہ ہے، نیز حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا ہمارا مطالبہ حقائق پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیے جماعت اسلامی کا سپر لانگ مارچ: حکومت عوام کو بڑا ریلیف پیکیج دینے کو تیار ہوگئی
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت آج اپنی اندرونی ورکنگ مکمل کر لے گی، جس کے بعد کل جماعت اسلامی کی ٹیم اور حکومت مل کر پیٹرولیم لیوی کے بتدریج خاتمے اور ریلیف پیکیج کا مشترکہ ورکنگ پیپر تیار کریں گے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ معاہدے کے ڈرافٹ کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان خود جماعت اسلامی کے آئندہ کے لائحہ عمل اور حتمی فیصلے کا اعلان کریں گے۔










