پاکستان میں ڈالرز کی ضرورت اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کے درمیان حکومت نے برآمدات بڑھانے کو معاشی استحکام کی بنیادی شرط قرار دے دیا ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ڈالرز کمانے کے لیے برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا، جبکہ حکومت نے ملکی برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔ دوسری جانب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مالی سال 26-2025 میں یہ ریکارڈ 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔
مزید پڑھیں: مسائل کے باوجود ٹیکسٹائل صنعت کا نیا ریکارڈ، صرف ایک ماہ میں پاکستانی برآمدات 1.83 ارب ڈالر سے تجاوز
ایسے میں اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان طویل مدت تک اپنی بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے ترسیلات زر پر انحصار کرتا رہے گا، یا معاشی استحکام کے لیے برآمدات کو ڈالر کمانے کا بنیادی اور پائیدار ذریعہ بنانا ہوگا؟ اور کیا موجودہ صنعتی و معاشی صورتحال میں 100 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حقیقت پسندانہ ہے، جسے پاکستان عملی طور پر حاصل بھی کر سکتا ہے؟
ترسیلات زر کو طویل مدت کے لیے بیرونی ادائیگیوں کا مستقل حل نہیں سمجھا جا سکتا، عابد قیوم
ماہرِ معیشت عابد قیوم سلہری کے مطابق مالی سال 26-2025 کے اعداد و شمار پاکستان کے بیرونی کھاتے میں موجود بنیادی کمزوری کو واضح کرتے ہیں۔ اس سال اشیا کی برآمدات 30.1 ارب ڈالر جبکہ درآمدات 69.8 ارب ڈالر رہیں، جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ 39.6 ارب ڈالر رہا۔
انہوں نے کہاکہ اسی عرصے میں بیرون ملک پاکستانیوں نے 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلات زر بھیجیں، یعنی ترسیلات زر نے قریباً پورے تجارتی خسارے کو سہارا دیا۔
ان کے مطابق اسے طویل مدت کے لیے بیرونی ادائیگیوں کا مستقل حل نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ ترسیلات زر بیرون ملک روزگار، میزبان ممالک کی پالیسیوں، عالمی تیل کی قیمتوں اور جغرافیائی کشیدگی جیسے عوامل سے متاثر ہو سکتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ترسیلات زر بنیادی طور پر پاکستانی خاندانوں کی آمدن ہیں، جو خوراک، تعلیم، علاج اور رہائش جیسی ضروریات پر خرچ ہوتی ہیں۔ اس لیے حکومت کو انہیں ملکی صنعتی اور برآمدی کمزوری کا متبادل بنانے کے بجائے برآمدی صلاحیت بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔
ان کے مطابق برآمدات میں اضافہ نہ صرف ملک کے لیے ڈالر کماتا ہے بلکہ مقامی پیداوار، روزگار، ٹیکس وصولی، ٹیکنالوجی اور کاروباری صلاحیت میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ ساتھ ہی حکومت کو رسمی ذرائع سے ترسیلاتِ زر بھیجنے کا عمل مزید سستا اور آسان بنانے، بیرون ملک روزگار کے لیے ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے اور تارکینِ وطن کے لیے شفاف سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے چاہییں۔
100 ارب ڈالر کی برآمدات کے حکومتی ہدف کے بارے میں عابد سلہری کا کہنا ہے کہ موجودہ رفتار اس ہدف سے مطابقت نہیں رکھتی۔ مالی سال 26-2025 میں اشیا کی برآمدات 5.9 فیصد کم ہو کر 30.1 ارب ڈالر رہیں، جبکہ اشیا اور خدمات کو ملا کر مجموعی برآمدات قریباً 40.9 ارب ڈالر بنتی ہیں۔
ان کے مطابق یہاں سے 100 ارب ڈالر تک پہنچنے کے لیے اگلی دہائی میں قریباً 10 فیصد سالانہ مسلسل اضافہ درکار ہوگا، جس کے لیے صرف ایک دو اچھے سال کافی نہیں بلکہ طویل مدتی اور مستقل برآمدی پالیسی ضروری ہوگی۔
وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے پاس برآمدات بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔ ٹیکسٹائل، کھیلوں کا سامان، آلات جراحی، چمڑا اور آئی ٹی خدمات پہلے ہی عالمی منڈی میں موجود ہیں، جبکہ ادویات، انجینیئرنگ، آٹو پارٹس، غذائی مصنوعات اور معدنیات جیسے شعبوں میں بھی نمایاں امکانات ہیں۔
انہوں نے کہاکہ بہت سے صنعتی ادارے محدود پیمانے، پرانی ٹیکنالوجی، کم تحقیق و ترقی، کمزور معیار اور مہنگی مالیات کے مسائل سے دوچار ہیں۔ خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے عالمی خریداروں تک رسائی، بین الاقوامی سرٹیفکیشن اور بڑے برآمدی آرڈرز کے لیے درکار مالی وسائل ایک بڑا چیلنج ہیں۔
عابد سلہری کے مطابق 100 ارب ڈالر کے ہدف کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ پالیسی کا عدم تسلسل ہے۔ ان کے بقول اگر حکومت صنعت سے 5 سالہ برآمدی منصوبہ چاہتی ہے تو اسے بھی توانائی، ٹیکس، کسٹمز، شرح مبادلہ اور درآمدی قواعد کے حوالے سے کم از کم 5 سال کا قابل اعتماد فریم ورک دینا ہوگا۔
’بجٹ کے دوران اچانک ٹیکس تبدیلیاں، ریفنڈز میں تاخیر یا خام مال کی درآمد پر پابندیاں برآمد کنندگان کی لاگت بڑھانے کے ساتھ عالمی خریداروں سے کیے گئے معاہدوں کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔‘
ان کے مطابق پائیدار برآمدی نمو کے لیے پاکستان کو وقتی مراعات کے بجائے مستقل پالیسی، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور عالمی مسابقت کے قابل صنعتی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔
موجودہ حالات میں برآمدات 100 ارب ڈالر تک لے جانا ممکن نہیں لگتا، شہباز رانا
معاشی تجزیہ کار شہباز رانا نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے پاکستان کی برآمدات 100 ارب ڈالر تک لے جانے کے بیان پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ معاشی اور صنعتی حالات اس ہدف کی حمایت نہیں کرتے۔
شہباز رانا کے مطابق پاکستان میں بجلی کی قیمتیں خطے کے مقابلے میں بہت زیادہ، ٹیکسز کا بوجھ بھاری اور پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان ہے، جس کے باعث پاکستانی صنعت عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل نہیں رہی۔
ان کا کہنا ہے کہ جب ملک میں پیداواری لاگت زیادہ ہو تو صنعت کار کے لیے مقامی مارکیٹ میں مال فروخت کرنا برآمد کرنے کے مقابلے میں زیادہ منافع بخش بن جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ موجودہ ماحول میں محض بڑے برآمدی اہداف مقرر کرنے سے برآمدات میں مطلوبہ اضافہ ممکن نہیں۔
شہباز رانا نے حکومت کے برآمدی اہداف میں بظاہر موجود تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے کہاکہ اگر 2027 کے لیے برآمدات کا سالانہ ہدف 32.5 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے تو پھر 2029 تک برآمدات کو 60 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف کس بنیاد پر حاصل ہوگا۔
ان کے مطابق موجودہ رفتار، صنعتی صلاحیت اور کاروباری ماحول کو دیکھتے ہوئے اتنے مختصر عرصے میں برآمدات میں اس قدر بڑا اضافہ حقیقت پسندانہ نہیں۔
انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے 100 ارب ڈالر کی برآمدات کے دعوے فی الحال عملی منصوبہ بندی سے زیادہ بیانات تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کو پہلے اپنی صنعتی مسابقت بحال کرنا ہوگی، جس کے لیے توانائی کی لاگت کم کرنے، ٹیکسوں کے بوجھ میں کمی، پالیسیوں میں تسلسل اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
شہباز رانا کے مطابق جب تک پاکستان کی صنعت عالمی منڈی میں قیمت، معیار اور پیداواری لاگت کے اعتبار سے مسابقت کے قابل نہیں بنتی، 100 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنا مشکل رہے گا۔
ان کے بقول موجودہ زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے یہ ہدف غیر حقیقی ہے اور حکومت کے بلند بانگ اعلانات کو عملی اقدامات سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔
100 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف ناممکن نہیں، پروفیسر انور شاہ
قائداعظم یونیورسٹی کے اسکول آف اکنامکس کے پروفیسر انور شاہ کے مطابق 100 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف موجودہ حالات میں مشکل ضرور ہے، تاہم ناممکن نہیں۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ ہدف مقرر کرنے کے بجائے پاکستان کی صنعتی مسابقت کو بہتر بنانا ہے۔
انور شاہ کا کہنا ہے کہ مہنگی توانائی، بلند ٹیکسز، مہنگی فنانسنگ اور پالیسیوں میں عدم تسلسل کے باعث پاکستانی صنعت عالمی منڈی میں مسابقت کھو رہی ہے، ایسے حالات میں صرف برآمدی اہداف مقرر کرنے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
مزید پڑھیں: برآمدات میں اضافے کے لیے متعلقہ صنعتوں کو سہولیات فراہم کی جائیں، وزیراعظم کی ہدایت
ان کے مطابق پاکستان کو ٹیکسٹائل کے ساتھ آئی ٹی، انجینیئرنگ، فارماسیوٹیکلز، زرعی مصنوعات اور دیگر ویلیو ایڈڈ شعبوں میں برآمدات بڑھانا ہوں گی۔ اس کے لیے حکومت کو توانائی کی لاگت کم کرنے، پالیسیوں میں تسلسل لانے اور صنعت کو طویل مدتی سہولت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
انور شاہ کے مطابق اگر بنیادی صنعتی اور معاشی مسائل حل کیے جائیں تو 100 ارب ڈالر کا ہدف طویل مدت میں حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن موجودہ زمینی حقائق میں محض اعلانات سے یہ ہدف حاصل نہیں ہوگا۔












