جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں ایک لگژری واچ اسٹور سے چوری ہونے والی تقریباً 2 کروڑ 70 لاکھ روپے مالیت کی قیمتی گھڑی غیر متوقع طور پر واپس پہنچا دی گئی۔ نامعلوم شخص نے چوری شدہ گھڑی کوریئر سروس کے ذریعے دکان بھجوائی جس کے ساتھ ہاتھ سے لکھا ہوا معذرت نامہ بھی موجود تھا۔
جاپانی میڈیا کے مطابق سوئس لگژری برانڈ آڈیمارز پیگے (Audemars Piguet) کی اس گھڑی کی مالیت 4 کروڑ 60 لاکھ جاپانی ین بتائی گئی ہے۔ گھڑی یکم نومبر کو جاپان کے صوبے آئچی سے کوریئر کے ذریعے ٹوکیو میں واقع اسی دکان کو واپس بھیجی گئی جہاں سے اسے چوری کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: محبوبہ کے کہنے پر اپنے ہی گھر سے 70 تولے سونا چوری کرلیا
دکان کے عملے نے گھڑی کا سیریل نمبر چیک کیا تو تصدیق ہوگئی کہ یہ وہی گھڑی ہے جو چند روز قبل چوری ہوئی تھی۔ پارسل بھیجنے والے کا نام اور پتہ بھی درج تھا تاہم تفتیشی حکام کو شبہ ہے کہ یہ تفصیلات جعلی ہیں۔ گھڑی کے ساتھ موجود تحریری پیغام میں چوری پر معذرت کی گئی تھی جبکہ گھڑی بظاہر کسی نقصان کے بغیر واپس مل گئی۔
جاپانی اخبار کے مطابق گھڑی چوری ہونے کا واقعہ 29 اکتوبر کی شام تقریباً 7 بج کر 45 منٹ پر پیش آیا۔ واردات ٹوکیو کے علاقے ناکانو میں واقع معروف شاپنگ کمپلیکس ناکانو براڈوے کی تیسری منزل پر قائم ایک واچ اسٹور میں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: بگاٹی کے سی ای او کی کروڑوں روپے مالیت کی گاڑی چوری، مالک نے چور کو کیسے ڈھونڈ نکالا؟
تحقیقاتی حکام کے مطابق ایک شخص دکان میں داخل ہوا اور پہلے ایک گھڑی پہن کر دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اسے واپس کرنے کے بعد اس نے دوسری گھڑی دیکھنے کی درخواست کی،؎ جو سوئس برانڈ آڈیمارز پیگے کی انتہائی قیمتی گھڑی تھی۔
مشتبہ شخص نے گھڑی اپنے بائیں ہاتھ پر پہنی اور دکان کے پچھلے حصے میں موجود آئینے کی جانب بڑھا۔ اس نے قریب رکھی کرسی پر بیٹھنے کا بہانہ کیا اور اچانک گھڑی واپس کیے بغیر دکان سے فرار ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: 6 ارب 30 کروڑ ڈالر کی کرپٹو کرنسی چوری، شمالی کوریا پر شبہ
ملزم نے گہرے رنگ کی جیکٹ اور پتلون پہن رکھی تھی جبکہ سر پر ٹوپی بھی تھی۔ وہ تقریباً آٹھ منٹ تک دکان میں موجود رہا اور واردات کے بعد شاپنگ کمپلیکس کے مشرقی حصے کی جانب فرار ہوگیا۔ فرار کے دوران اس نے ایک موقع پر ایسکیلیٹر پر لوگوں کی آمدورفت کی مخالف سمت میں بھی دوڑ لگائی۔
ٹوکیو میٹروپولیٹن پولیس نے واقعے کی تحقیقات جاری رکھتے ہوئے گھڑی چوری کرنے والے مشتبہ شخص کی تلاش تیز کر دی ہے۔ پولیس اب اس شخص کی شناخت بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس نے چوری شدہ گھڑی کوریئر کے ذریعے واپس بھیجی۔
یہ بھی پڑھیں: چاول کی بھوسی سے بنے ماحول دوست گھر، کیا یہ لکڑی و کنکریٹ کی جگہ لے لیں گے؟
علاقے میں نصب سکیورٹی کیمروں کی فوٹیج میں ایک شخص کو فرار ہوتے دیکھا گیا ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہی واردات میں ملوث تھا۔ فوٹیج میں اس کے بائیں ہاتھ پر گھڑی جیسی کوئی چیز بھی دکھائی دیتی ہے۔
چوری کے بعد کروڑوں روپے مالیت کی گھڑی کا معذرت نامے کے ساتھ واپس پہنچنا پولیس کے لیے ایک نیا سوال بن گیا ہے کہ آخر ملزم نے گھڑی واپس کرنے کا فیصلہ کیوں کیا اور پارسل بھیجنے والا شخص کون ہے؟











