امریکی خلائی ادارے ناسا کی مشہور خلائی دوربین ‘نیل گیہرلز سوئفٹ آبزرویٹری’ 22 سال تک کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے کے بعد بدھ کو زمین کی فضا میں دوبارہ داخل ہونے والی ہے، جہاں شدید حرارت کے باعث اس کے بیشتر حصے جل کر ختم ہوجائیں گے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تقریباً 1,452 کلوگرام وزنی یہ خلائی دوربین زمین کے گرد مدار میں گردش کرتے ہوئے فضا کی جانب واپس آرہی ہے۔ ناسا کا کہنا ہے کہ اس کے کچھ ٹکڑے فضا میں داخل ہونے کے دوران جلنے سے بچ بھی گئے تو ان سے آبادی والے علاقوں کو نقصان پہنچنے کا امکان انتہائی کم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کی طاقتور نئی خلائی دوربین خلا میں روانہ، کائنات کے بڑے رازوں سے پردہ اٹھانے کا مشن
امریکی خلائی فورس کے تخمینے کے مطابق زمین پر کسی شخص کو اس کے ملبے سے نقصان پہنچنے کا امکان 2,100 میں سے ایک ہے۔ ناسا نے ابتدائی طور پر اس کی زمین کی فضا میں واپسی کا وقت صبح 8 بج کر 30 منٹ جی ایم ٹی بتایا تھا، تاہم مختلف اداروں اور ماہرین نے اس حوالے سے مختلف اوقات کا اندازہ لگایا۔
لندن سے تعلق رکھنے والے ماہر فلکیات جوناتھن میک ڈاؤل کے مطابق امریکی خلائی فورس کے نظرثانی شدہ اعداد و شمار میں اس کی واپسی کا زیادہ امکان صبح 7 بج کر 45 منٹ ایسٹ بتایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دوربین انتہائی کم بلندی پر تقریباً دائرہ نما مدار میں گردش کر رہی ہے اور اصل سوال یہ ہے کہ فضا سے رگڑ کے باعث کس مقام پر اس کا درجہ حرارت اتنا بڑھ جائے گا کہ یہ ٹوٹنا شروع ہوجائے گی۔
ناسا کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی یہ خلائی دوربین 2004 میں خلا میں بھیجی گئی تھی۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی کثیرالجہتی خلائی رصدگاہ تھی، جس میں 3 دوربینیں نصب تھیں اور اس کا بنیادی مقصد کائنات میں ہونے والے طاقتور ترین دھماکوں، بالخصوص گاما شعاعوں کے اخراج کا مشاہدہ کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیر چوک انڈر پاس کی تعمیر، راول ڈیم چوک سے سرینا ہوٹل جانے والی سڑک ٹریفک کے لیے بند
سوئفٹ آبزرویٹری کو ابتدائی طور پر صرف 2 سال کے مشن کے لیے تیار کیا گیا تھا، تاہم اس نے توقع سے کہیں زیادہ عرصے تک کام جاری رکھا۔ اس دوران اس نے دور دراز کہکشاؤں، عظیم الجثہ بلیک ہولز، ستاروں سے خارج ہونے والی ایکس رے شعاعوں، دمدار ستاروں اور شہابیوں سمیت متعدد خلائی مظاہر کا مطالعہ کیا۔
یہ خلائی دوربین اپنے اندر کوئی ایسا انجن نہیں رکھتی تھی جس کی مدد سے وہ خود اپنے مدار کو درست کرسکتی۔ اسی وجہ سے گزشتہ کئی ماہ سے اس کا مدار مسلسل کم ہورہا تھا اور یہ زمین کی جانب واپس آنے کے قریب پہنچ گئی تھی۔ یہ زمین کے گرد تقریباً 27 ہزار 359 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گردش کر رہی تھی۔
خلائی دوربین کو بچانے کی کوشش ناکام
سوئفٹ دوربین کی مدتِ کار بڑھانے کے لیے رواں سال جولائی میں ناسا اور امریکی ریاست ایریزونا کی نئی کمپنی ‘کیٹالسٹ’ نے مشترکہ طور پر ایک خصوصی خلائی جہاز ‘لنک’ روانہ کیا تھا۔ منصوبے کے تحت اس جہاز نے سوئفٹ دوربین کے قریب پہنچ کر اسے اپنے ساتھ منسلک کرنا اور بلند مدار میں منتقل کرنا تھا تاکہ وہ مزید کئی سال تک کام کرسکے۔
تاہم خلا میں پہنچنے کے کچھ ہی عرصے بعد لنک خلائی جہاز بے قابو ہوکر گھومنے لگا، جس کے باعث مشن ناکام ہوگیا۔ اگست کے وسط تک مشن کے منتظمین نے دوربین کو بچانے کی کوشش ترک کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
یہ امریکی تاریخ کا اپنی نوعیت کا پہلا مشن تھا، جسے مستقبل میں خلا میں موجود مصنوعی سیاروں کی مرمت اور ان کی مدتِ کار بڑھانے کی ٹیکنالوجی کے اہم تجربے کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ اس ٹیکنالوجی کو امریکہ اور چین کے درمیان خلائی مقابلے کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا گیا، کیونکہ اس کے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کے امکانات بھی موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کائنات کے ارتقا کے راز جاننے کے لیے ناسا کی نئی دوربین 2033 میں خلا میں بھیجنے کا ہدف
کیٹالسٹ کمپنی کے مطابق لنک خلائی جہاز کو صرف 9 ماہ کے غیر معمولی مختصر عرصے میں تیار اور آزمائش کے مراحل سے گزارا گیا تھا، جبکہ اس منصوبے کے لیے ناسا نے 30 ملین ڈالر کا معاہدہ کیا تھا۔
یوں 2004 میں کائنات کے طاقتور ترین دھماکوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے شروع ہونے والا سوئفٹ آبزرویٹری کا مشن 22 سال بعد اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔
صائم ایوب ایک درجہ تنزلی کے بعد 117 پوائنٹس کے ساتھ 58ویں جبکہ محمد نواز 3 درجے نیچے آکر 97ویں نمبر پر آگئے۔
افغانستان کے عظمت اللہ عمرزئی ون ڈے آل راؤنڈرز کی عالمی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر برقرار ہیں، زمبابوے کے سکندر رضا دوسرے اور افغانستان کے محمد نبی تیسرے نمبر پر ہیں۔











