برطانوی بادشاہ کنگ چارلس سوم اور ملکہ کمیلا نے بدھ 4 نومبر کو کیریبین کا دورہ مکمل کرلیا، تاہم اس دورے کے دوران برطانیہ کی جانب سے بحرِ اوقیانوس کے پار غلاموں کی تجارت میں تاریخی کردار پر معافی مانگنے اور ہرجانہ ادا کرنے کے مطالبات چھائے رہے۔
شاہی خاندان نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی جاری کی، جس میں انٹیگوا کے وی سی برڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر شاہی جوڑے کو الوداع کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی ولی عہد ولیم نے شاہ چارلس کو مشکل میں ڈال دیا
کنگ چارلس گزشتہ ایک ہفتے سے کیریبین کے دورے پر تھے۔ انہوں نے 30 اکتوبر کو انٹیگوا اور باربوڈا پہنچنے سے قبل بہاماس اور گیانا کا دورہ کیا، جبکہ ملکہ کمیلا یکم نومبر کو ان کے ساتھ شامل ہوئیں۔
شاہی جوڑے نے دولتِ مشترکہ کے سربراہانِ حکومت کے اجلاس میں بھی شرکت کی، جہاں کنگ چارلس نے غلامی کے تاریخی مظالم اور برطانیہ کے کردار پر اظہارِ خیال کیا۔
دولتِ مشترکہ کے رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے بادشاہ نے کہا کہ غلامی کی ہولناکیوں کے بارے میں ان کی بڑھتی ہوئی سمجھ بوجھ نے انہیں ماضی کی ناانصافیوں کے ازالے کے لیے مزید پُرعزم کیا ہے، تاہم مستقبل کی جانب دیکھنا اور اس بات کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ ‘برائی کو آخری فتح حاصل نہ ہو’۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی شاہی خاندان کی معالجہ شوہر کے ہاتھوں قتل، شاہ چارلس کو مطلع کر دیا گیا
56 رکن ممالک پر مشتمل دولتِ مشترکہ کے اجلاس سے قبل یہ بحث زور پکڑتی رہی کہ آیا برطانیہ کو بحرِ اوقیانوس کے پار غلاموں کی تجارت میں اپنے تاریخی کردار پر باضابطہ معافی مانگنی چاہیے یا متاثرہ ممالک کو ہرجانہ ادا کرنا چاہیے۔ ان میں سے بیشتر ممالک ماضی میں برطانوی نوآبادیاں رہے ہیں۔
تاہم کنگ چارلس یا برطانوی حکومت کی جانب سے نہ تو باضابطہ معافی مانگی گئی اور نہ ہی ہرجانے کی ادائیگی پر کوئی بات سامنے آئی۔ دوسری جانب کنگ چارلس اور برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے دولتِ مشترکہ کے پلیٹ فارم کو موسمیاتی تبدیلی، تعلیم اور صحت جیسے موجودہ مسائل سے نمٹنے کے لیے استعمال کرنے کی بات کی ہے۔











