وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پاک بھارت جنگ رکوانے میں کردار ادا کرنے پر عزت دی، تاہم امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کسی شخصیت کے بجائے ملکی اور قومی مفادات کی بنیاد پر قائم ہیں، جبکہ نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر اتفاق رائے سے ہونا چاہیے۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ امریکا عالمی طاقت ہے اور سفارت کاری کا بنیادی تقاضا ہے کہ پاکستان کے اس کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رہیں۔ یہ تاثر درست نہیں کہ پاکستان کی پالیسی صرف ٹرمپ کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے پر مبنی ہے۔
ٹرمپ کو معرکہ حق میں کردار پر عزت دی، دوستی نہیں کی
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مخالفین پاکستان کو یہ کہہ کر ٹرمپ سے ڈراتے رہے کہ وہ اقتدار میں آئیں گے تو حالات کا پتا چل جائے گا، لیکن پاکستان نے نہ تو ٹرمپ سے دوستی کی اور نہ ہی کسی دباؤ میں آکر اپنی خارجہ پالیسی مرتب کی۔
یہ بھی پڑھیں:مولانا فضل الرحمان سے محاذ آرائی ن لیگ کی پالیسی نہیں، دوسری قسط نہیں آئے گی، رانا ثنا اللہ
ان کے بقول پاکستان نے معرکہ حق میں کردار ادا کرنے پر ٹرمپ کو عزت دی اور ان کی یہ خواہش بھی پوری کی کہ انہیں نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ رکوانے میں کردار ادا کیا، جسے پاکستان نے تسلیم کیا اور اس کا اعتراف کیا۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے امریکا کے ساتھ تعلقات کسی ایک شخصیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ریاستی اور قومی سطح پر ہیں۔ سفارت کاری کا تقاضا یہی ہے کہ امریکا کے ساتھ تعلقات اچھے رکھے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے امریکا کے ساتھ تعلقات کی اہمیت اور حساسیت کو درست انداز میں سمجھا ہے۔
ایران کا پاکستان پر اعتماد، مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کے لیے بھرپور کوششیں
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ ایران بھی پاکستان پر اعتماد کررہا ہے اور مشرق وسطیٰ میں جنگ ختم کرانے کے لیے پاکستان نے جتنی کوششیں کی ہیں، کسی دوسرے ملک نے اتنی کوششیں نہیں کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان نے صرف ٹرمپ کے ساتھ تعلقات بنانے اور انہیں برقرار رکھنے کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنایا ہوتا تو ایران کے ساتھ اچھے تعلقات کیسے قائم رکھے جاسکتے تھے؟
رانا ثنا اللہ کے مطابق پاکستان نے اپنی سفارت کاری میں توازن برقرار رکھا اور قومی مفادات کو ترجیح دی، یہی وجہ ہے کہ امریکا کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنے کے باوجود ایران بھی پاکستان پر اعتماد کررہا ہے۔
وزیراعظم اور بلاول بھٹو کی ملاقات، نئے صوبوں سمیت اہم معاملات پر تبادلہ خیال
رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی گزشتہ روز چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے ون آن ون ملاقات ہوئی، جس میں مختلف اہم معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ملاقات میں نئے صوبوں کے قیام سمیت تمام متعلقہ امور پر بات چیت ہوئی۔
ان کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق کوئی بھی فیصلہ مکمل اتفاق رائے سے کیا جائے اور اس معاملے میں صرف پارلیمنٹ کے اندر موجود جماعتوں ہی نہیں بلکہ پارلیمنٹ سے باہر کی سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔
مزید پڑھیں:ریاست کا ماں جیسا درجہ، مولانا فضل الرحمان کے نازیبا الفاظ سے قوم کو شدید تکلیف پہنچی، رانا ثنا اللہ
رانا ثنا اللہ نے تجویز دی کہ نئے صوبوں کے معاملے پر ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے، جہاں اس اہم قومی معاملے پر تفصیلی بحث اور مشاورت ہوسکے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامی یونٹس کا قیام اور بااختیار بلدیاتی نظام بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ عوام کو انتظامی اور حکومتی سطح پر بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے ان معاملات پر سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہے۔
مولانا فضل الرحمان اور ان کے بیٹے کو نیب نوٹسز کی مخالفت
مولانا فضل الرحمان اور ان کے بیٹے کو نیب کی جانب سے نوٹسز جاری کیے جانے سے متعلق سوال پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وہ اس حوالے سے کسی فیصلے یا اقدام سے متفق نہیں ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ مولانا فضل الرحمان کو جاری کیے جانے والے نوٹسز کی حمایت نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ سیاسی سطح پر جاری ’کراس فائر‘ کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا بہت احترام کرتے ہیں، تاہم خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ اور آپریشن کو معدنیات کے حصول سے جوڑنے کے ان کے مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔
ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کی اس بات سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ یا جاری آپریشن معدنیات کے لیے ہے اور شہدا کی قربانیاں صرف کسی کے معدنی وسائل پر قبضے کے لیے دی جارہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معدنیات زمین کے اندر دفن ہیں، لیکن انہیں نکالنے کے لیے نہ تو متعلقہ فریقوں کے پاس مطلوبہ تکنیکی صلاحیت موجود ہے اور نہ ہی مالی وسائل کی ایسی پوزیشن ہے کہ اس بنیاد پر دہشتگردی کے خلاف جنگ کو معدنیات کے حصول کی کوشش قرار دیا جائے۔
مولانا فضل الرحمان سے کوئی حساب چکانا مقصود نہیں، دہشت گردی کے خلاف کامیابی ناگزیر ہے
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے کوئی حساب چکانا مقصود نہیں اور دہشتگردی کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کے سوا پاکستان کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی بھارت اور اسرائیل نواز افغان دہشتگردوں سے مذاکرات کا مطالبہ کر رہی ہے، رانا ثنا اللہ
انہوں نے کہا کہ شہدا کی قربانیوں کا حقیقی اعتراف یہی ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ پر پوری توجہ دی جائے اور اس چیلنج سے کامیابی کے ساتھ نمٹا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان سے حالیہ دنوں میں ان کی کوئی بات چیت نہیں ہوئی، تاہم جب سیاسی ماحول میں کشیدگی کی ابتدا ہوئی تھی تو ان کی مولانا اسد محمود سے بات ہوئی تھی۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے کبھی وزارت اعلیٰ یا گورنر شپ کا مطالبہ نہیں کیا۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی رائے ہے کہ مولانا فضل الرحمان سے متعلق معاملے کو مزید آگے نہیں بڑھنا چاہیے، کیونکہ اس کے سیاسی اور دیگر نقصانات ہوسکتے ہیں۔
محسن نقوی اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقاتوں سے متعلق علم نہیں
وزیر داخلہ محسن نقوی اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان رابطوں سے متعلق سوال پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ انہیں ایسی کسی گفتگو کا علم نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ممکن ہے وزیر داخلہ کی مولانا فضل الرحمان سے کوئی بات ہوئی ہو، کیونکہ محسن نقوی کی بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی کے ساتھ بھی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔
ان کے مطابق بیرسٹر گوہر کی کوششوں کے نتیجے میں سلمان صفدر کی بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات بھی ہوئی۔
نئے صوبوں اور صدارتی نظام کا منصوبہ عمران خان کا تھا
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر نئے صوبوں اور صدارتی نظام کے قیام کا منصوبہ عمران خان کا پروجیکٹ تھا، تاہم موجودہ سیاسی حالات میں وہ خود ایسے کسی فارمولے کی حمایت نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات حکومت کے علم میں ہے کہ موجودہ حالات میں عمران خان ایسے کسی منصوبے کی حمایت نہیں کریں گے۔
مریم نواز کا کرپشن کے الزامات کا کھلا جواب، رانا ثنا اللہ
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ترقیاتی منصوبوں اور کرپشن سے متعلق الزامات پر گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مریم نواز نے بڑی جرات کے ساتھ اپنے مؤقف کا اظہار کیا ہے۔
مزید پڑھیں:عسکری و سیاسی قیادت کا فیصلہ ہے اسلام آباد میں کسی کو احتجاج نہیں کرنے دیا جائے گا، رانا ثنا اللہ
ان کے مطابق مریم نواز نے کہا ہے کہ انہوں نے صوبے میں کئی سو ارب روپے کے منصوبے دیے ہیں اور اگر ان منصوبوں میں ایک روپے کی کرپشن بھی ثابت کردی جائے تو وہ عوام کو جواب دہ ہوں گی۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ چوہدری سالک حسین کے پاس اگر کرپشن سے متعلق کوئی شواہد موجود ہیں تو انہیں سامنے لانا چاہیے، بصورت دیگر انہیں اس نوعیت کی بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہا کہ کسی پر کرپشن کے الزامات عائد کرنے کے بجائے متعلقہ شواہد پیش کرنا ضروری ہے، تاکہ معاملے کی حقیقت سامنے آسکے۔











