سیف سٹی کے منصوبے ’میرا پیارا‘ نے سرحدوں کے پار بچھڑے افراد کو ان کے اپنوں سے ملانے کی کوششوں میں ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 40 سال سے اپنے خاندان سے بچھڑی بنگلہ دیشی خاتون حلیمہ کے اہلِ خانہ کو تلاش کر لیا ہے۔
بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی حلیمہ 2013 میں اسلام آباد میں لاوارث حالت میں ملی تھیں۔ اردو زبان سے ناواقف ہونے کے باعث وہ اپنی شناخت اور اہلِ خانہ سے متعلق معلومات فراہم کرنے سے قاصر تھیں، جس کے بعد انہیں عارضی پناہ کے لیے ایدھی سینٹر منتقل کردیا گیا تھا، جہاں وہ کئی سال سے مقیم تھیں۔
سیف سٹی کی ’میرا پیارا‘ ٹیم نے حلیمہ کی جانب سے فراہم کردہ محدود معلومات کی بنیاد پر ان کے اہلِ خانہ کی تلاش شروع کی۔ اس سلسلے میں ٹیم نے سوشل میڈیا اور مقامی انتظامیہ سے رابطوں کے ذریعے تلاش کا عمل جاری رکھا۔
مسلسل کوششوں کے نتیجے میں سیف سٹی ’میرا پیارا‘ ٹیم بنگلہ دیش میں حلیمہ کے بیٹے اور بھتیجے کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ حلیمہ کی جانب سے بتائے گئے آبائی گاؤں اور اہلِ خانہ کے ناموں کی مدد سے ان کے خاندان تک رسائی ممکن ہوئی۔
سیف سٹی ٹیم نے مقامی حکام اور اہلِ خانہ سے رابطہ کرکے حلیمہ سے متعلق معلومات کی تصدیق بھی کی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی سیف سٹی کی ’میرا پیارا‘ ٹیم نے 40 سال سے اپنے خاندان سے بچھڑی بنگلہ دیشی خاتون کوہ نور کے اہلِ خانہ کو تلاش کیا تھا۔
ترجمان سیف سٹیز کے مطابق ’میرا پیارا‘ ٹیم سرحدوں سے بالاتر ہو کر بچھڑے افراد کو ان کے پیاروں سے ملانے کے لیے سرگرم ہے۔ حلیمہ کے اہلِ خانہ کی تلاش سیف سٹی کی انسانی خدمت کے شعبے میں ایک اور اہم کامیابی ہے۔
ترجمان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی گمشدہ یا لاوارث شخص کی اطلاع دینے کے لیے ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر کال کرکے 3 دبائیں۔











