پھل کھائیں یا جوس پییں، دل کی صحت کے لیے بہتر انتخاب کون سا ہے؟

جمعرات 5 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ماہرین کے مطابق پورا پھل کھانے سے فائبر سمیت کئی ایسے غذائی اجزا ملتے ہیں جو کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں تاہم 100 فیصد خالص پھلوں کا جوس بھی اعتدال میں پینے سے کچھ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’سیب کے جاسوس‘ میدان میں، صدیوں پرانے گمشدہ پھلوں کی تلاش کیوں شروع ہوئی؟

دل کی صحت بہتر رکھنے کے لیے پھل کھانے کا مشورہ عام ہے لیکن کیا پورا پھل کھانا زیادہ فائدہ مند ہے یا اس کا جوس پینا بھی اتنا ہی مفید ہے؟ ایک بڑی نئی تحقیق میں اس سوال کا جائزہ لیا گیا ہے جس کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول، دل کی شریانوں کی بیماری اور ہارٹ اٹیک کی تاریخ رکھنے والے افراد عموماً پورا پھل نسبتاً کم کھاتے ہیں۔

طبی جریدے ’کرنٹ ڈیولپمنٹس اِن نیوٹریشن‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں امریکا کے 3 لاکھ 71 ہزار 38 بالغ افراد کے سال 2019 کے سروے کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔

محققین نے دیکھا کہ ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول، دل کی شریانوں کی بیماری یا پہلے ہارٹ اٹیک کا سامنا کرنے والے افراد، ان لوگوں کے مقابلے میں پورا پھل کم کھاتے تھے جنہیں یہ مسائل درپیش نہیں تھے۔

تاہم پھلوں کے جوس کے استعمال کے حوالے سے نتائج یکساں نہیں تھے۔ ہائی کولیسٹرول والے افراد اوسطاً کم جوس پیتے تھے جبکہ پہلے ہارٹ اٹیک کا سامنا کرنے والے افراد میں جوس کا استعمال نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔ ہائی بلڈ پریشر یا فالج کی تاریخ رکھنے والے افراد میں جوس پینے کے حوالے سے کوئی واضح رجحان سامنے نہیں آیا۔

تحقیق میں شامل افراد اوسطاً روزانہ 1.06 مرتبہ پورا پھل کھاتے تھے، جبکہ جوس پینے کی اوسط روزانہ 0.3 مرتبہ تھی۔

مزید پڑھیے: پاکستان کے زرعی شعبے میں نیا انقلابی موڑ، پھلوں کا پہلا برآمد کنندہ اسٹاک ایکسچینج کی فہرست پر لسٹنگ کے لیے تیار

اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے نیورولوجسٹ اور فالج کے ماہر ڈاکٹر رب نواز نے کہا کہ نتائج فائبر سے بھرپور غذاؤں کے فوائد سے متعلق پہلے سے موجود معلومات کے مطابق ہیں تاہم اس تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ زیادہ پھل کھانے سے دل کی بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے۔

ماہر غذائیت جینیفر پیلیئن نے بھی ان نتائج کو غیرمتوقع قرار نہیں دیا۔ ان کے مطابق چین میں 4 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ افراد پر ہونے والی ایک بڑی تحقیق میں دیکھا گیا تھا کہ روزانہ تازہ پھل کھانے والوں میں دل کی بیماریوں سے موت کا خطرہ ان افراد کے مقابلے میں 40 فیصد کم تھا جو شاذونادر یا کبھی پھل نہیں کھاتے تھے۔ اسی طرح ان میں دل کی بڑی شریانوں سے متعلق سنگین مسائل کا خطرہ بھی 34 فیصد کم پایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ تحقیق میں خاص طور پر جوس کے استعمال اور دل کی صحت کے درمیان تعلق کم واضح رہا۔ عمر، تعلیم، آمدنی اور تمباکو نوشی جیسے عوامل کو مدنظر رکھنے کے بعد جوس کے استعمال میں نمایاں فرق صرف ہائی کولیسٹرول اور ہارٹ اٹیک کی تاریخ رکھنے والے افراد میں سامنے آیا۔

پورا پھل جوس سے زیادہ فائدہ مند کیوں؟

پھلوں کا جوس نکالنے کے دوران عموماً ان کا زیادہ تر فائبر گودے کے ساتھ الگ ہو جاتا ہے، جبکہ فائبر کولیسٹرول اور خون میں شوگر کی سطح کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: بالائی دیر کے جاپانی پھل کی خاص بات کیا ہے؟

ماہرین کے مطابق پورے پھل میں فائبر کے علاوہ بعض ایسے نباتاتی مرکبات اور غذائی اجزا بھی نسبتاً زیادہ مقدار میں موجود ہوتے ہیں جو جوس میں کم رہ جاتے ہیں۔

جینیفر پیلیئن نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ایک کپ مالٹے کی پھانکوں میں تقریباً 3.6 گرام فائبر ہوتا ہے جبکہ ایک کپ 100 فیصد خالص مالٹے کے جوس میں یہ مقدار صرف 0.5 گرام رہ جاتی ہے۔

ان کے مطابق فائبر دل کی صحت کے لیے کئی حوالوں سے اہم ہے۔ حل پذیر فائبر نظامِ ہاضمہ میں صفراوی نمکیات کے ساتھ جڑ کر ان کے اخراج میں مدد دیتا ہے جس سے خراب کولیسٹرول یعنی ایل ڈی ایل کی سطح کم ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ فائبر بلڈ پریشر کو صحت مند سطح پر رکھنے، جسم میں سوزش کم کرنے اور وزن قابو میں رکھنے میں بھی مددگار ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر رب نواز کے مطابق پورے پھل کھانے سے پیٹ زیادہ دیر تک بھرا رہتا ہے اور ان میں موجود مفید نباتاتی اجزا خون کی شریانوں کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہوتے ہیں۔ اس لیے روزمرہ خوراک میں پورا پھل جوس کے مقابلے میں بہتر انتخاب ہے۔

یہ بھی پڑھیے: سبزی، پھلوں اور پانی کے ذریعے پہنچ کر پیٹ شدید خراب کرنے والا جرثومہ کونسا، بچا کیسے جائے؟

جینیفر پیلیئن نے اس کی ایک وجہ پھل کی قدرتی ساخت کو بھی قرار دیا۔ پورا پھل چبانا پڑتا ہے اور اس کی خلیاتی ساخت برقرار رہتی ہے، جس سے پیٹ بھرنے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یہ کیفیت وزن کو قابو میں رکھنے میں مدد دے سکتی ہے جو دل کی صحت کے لیے بھی اہم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پورے پھلوں میں بعض خاص نباتاتی مرکبات بھی ہوتے ہیں جنہیں نان ایکسٹریکٹ ایبل پولی فینولز کہا جاتا ہے۔ یہ فائبر کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں اور بڑی آنت تک پہنچ کر وہاں موجود مفید بیکٹیریا کے ذریعے ٹوٹتے ہیں۔ اس عمل سے بننے والے مرکبات کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کم کرنے اور خون کی شریانوں میں نقصان دہ چکنائی جمع ہونے کے عمل کو روکنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

تاہم ماہرین نے یہ بھی واضح کیا کہ 100 فیصد خالص پھلوں کے جوس کو مکمل طور پر غیرمفید قرار دینا درست نہیں۔ اس میں بھی وٹامنز، معدنیات اور بعض مفید نباتاتی اجزا موجود ہوتے ہیں۔ بعض کیروٹینائڈز اور پولی فینولز جوس کی صورت میں جسم میں نسبتاً آسانی سے جذب ہو سکتے ہیں۔ سابقہ تحقیق کے مطابق روزانہ 200 ملی لیٹر تک جوس پینے سے دل کی صحت کے لیے کچھ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

نیدرلینڈز میں ہونے والی ایک بڑی تحقیق میں بھی اعتدال کے ساتھ 100 فیصد خالص پھلوں کا جوس پینے اور دل کی بیماریوں کے کم خطرے کے درمیان تعلق دیکھا گیا تھا۔ اس تحقیق میں ہفتے کے دوران سات چھوٹے گلاس تک جوس پینے کو معتدل مقدار قرار دیا گیا تھا۔

تحقیق سے کیا ثابت نہیں ہوتا؟

ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نئی تحقیق مشاہداتی نوعیت کی تھی اور اس میں شرکا کی صحت اور خوراک سے متعلق معلومات ایک مخصوص وقت کے حوالے سے جمع کی گئی تھیں۔ محققین نے ان افراد کو کئی ماہ یا سال تک مسلسل زیرِ مشاہدہ نہیں رکھا۔

مزید پڑھیں: پیٹو بھالو باز نہ آیا، بے تحاشہ پھل کھانے پر پھر اسپتال میں داخل

اس لیے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کم پھل کھانے سے دل کی بیماریاں پیدا ہوئیں یا دل کی بیماری کی تشخیص کے بعد لوگوں نے اپنی خوراک میں تبدیلی کی۔ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ افراد کتنی مرتبہ پھل یا جوس استعمال کرتے ہیں، لیکن ہر مرتبہ کھائی یا پی جانے والی مقدار نہیں ناپی گئی۔

اس کے علاوہ شرکا نے اپنی صحت اور خوراک سے متعلق معلومات خود فراہم کی تھیں، جس میں یادداشت کی غلطی یا جوس کی اقسام کے بارے میں غلط فہمی کا امکان موجود رہتا ہے۔ مثال کے طور پر 100 فیصد خالص پھلوں کے جوس اور اضافی چینی والے پھلوں کے مشروبات میں فرق کرنا ہر فرد کے لیے آسان نہیں ہوتا۔

ڈاکٹر رب نواز کے مطابق ورزش، جسمانی وزن اور مجموعی غذائی عادات جیسے عوامل بھی دل کی صحت پر اثرانداز ہو سکتے ہیں اس لیے صرف پھل یا جوس کے استعمال کی بنیاد پر کسی نتیجے تک پہنچنا درست نہیں ہوگا۔

تحقیق میں شامل افراد بھی امریکا کی پوری آبادی کی مکمل نمائندگی نہیں کرتے تھے اس لیے نتائج کو ہر آبادی پر یکساں طور پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔

اگر پورا پھل کھانا مشکل ہو تو کیا کریں؟

بعض افراد کو پھلوں کی ساخت یا انہیں چبانے میں دشواری محسوس ہوتی ہے اور وہ جوس پینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے افراد کے لیے ماہرین نے کچھ متبادل طریقے تجویز کیے ہیں جن سے پھلوں کے غذائی فوائد بڑی حد تک برقرار رکھے جا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر رب نواز کے مطابق پورے پھل کو چھاننے کے بجائے بلینڈر میں ڈال کر اسموتھی بنائی جا سکتی ہے کیونکہ اس طرح پھل کا زیادہ تر فائبر برقرار رہتا ہے۔ اس کے علاوہ بغیر اضافی چینی کے سیب کی پیوری، مسلے ہوئے کیلے، نرم بیریز اور پکا ہوا پھل بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیے: پھل، جو کھانے سے بہتر نیند آتی ہے

جینیفر پیلیئن کا کہنا تھا کہ پورے پھل کو بلینڈ کرکے بنائی گئی اسموتھی ان افراد کے لیے درمیانی راستہ ہو سکتی ہے جو پھل کی اصل ساخت پسند نہیں کرتے تاہم اسموتھی بھی غذائی اعتبار سے پورے پھل کے مکمل متبادل کے طور پر نہیں دیکھی جا سکتی۔

انہوں نے ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس میں پورے سیب، سیب کی پیوری اور سیب کے جوس کا موازنہ کیا گیا تھا۔ نتائج کے مطابق پورا سیب کھانے سے پیٹ زیادہ دیر تک بھرا رہتا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پھل کی قدرتی ساخت اور اسے چبانے کا عمل بھوک کو قابو میں رکھنے میں اضافی کردار ادا کر سکتا ہے۔

اگر جوس پینا ہی ترجیح ہو تو ڈاکٹر رب نواز نے بغیر اضافی چینی والا 100 فیصد خالص پھلوں کا جوس منتخب کرنے اور اس کی مقدار محدود رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 4 اونس یعنی 120 ملی لیٹر جوس ایک مناسب مقدار ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قبض کا توڑ: کنگز کالج لندن کے ماہرین نے نئے اصول وضع کردیے، کیوی پھل پر بھی زور

ماہرین کا مجموعی مشورہ یہی ہے کہ روزمرہ خوراک میں پورے پھل کو ترجیح دی جائے کیونکہ اس سے فائبر اور دیگر مفید غذائی اجزا زیادہ مقدار میں حاصل ہوتے ہیں۔ جوس کو مکمل طور پر ترک کرنا ضروری نہیں لیکن اسے پورے پھل کے برابر غذائیت کا حامل سمجھنا بھی درست نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایس ایس جی ہیڈکوارٹر تربیلا کا دورہ، خصوصی آپریشنز کی صلاحیتوں کا جائزہ

لاہور شاہی قلعہ: میں اکبری گیٹ اور کیوریٹر ہاؤس کی ٹرائل اوپننگ

خیبرپختونخوا کے ایم ٹی آئی اسپتالوں میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری، بورڈ آف گورنرز کی سربراہی ریٹائرڈ ڈاکٹروں کو دینے پر غور

بحریہ ٹاؤن پشاور کیس میں اہم پیشرفت، 6 ارب 40 کروڑ روپے کی جائیداد منجمد کرنے کی توثیق

کشمیر چوک انڈر پاس کا افتتاح: اتنی برق رفتاری کسی منصوبے میں نہیں دیکھی، وزیراعظم شہباز شریف

ویڈیو

گورنر راج کے بعد خیبرپختونخوا میں وفاق کا تیسرا حکمنامہ، بلدیاتی انتخابات پر پابندی

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟