امریکی کاروباری شخصیت اور بزنس اسٹریٹجسٹ ڈیو ڈی اینجلو نے پاکستان کے اپنے دورے کے دوران پاکستانی عوام کی مہمان نوازی، خلوص اور عزت و احترام کے جذبے کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے تقریباً 40 ممالک کے سفر کے دوران انہیں کہیں بھی ایسا مشفقانہ اور پُرتپاک رویہ دیکھنے کو نہیں ملا جیسا پاکستان میں محسوس کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کاروباری طبقے کو سہولتیں، نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، محسن نقوی
وی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ڈیو ڈی اینجلو کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جہاں بھی گئے انہیں خوش آمدید کہنے والے چہرے دکھائی دیے اور یہاں کے لوگوں کی محبت نے پاکستان کے بارے میں ان کے تاثر کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کھانوں کو قدرے زیادہ مسالے دار قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا عادی ہونے میں کچھ وقت لگے گا تاہم پاکستان سے واپس جانا ان کے لیے مشکل ہوگا۔
ڈیو ڈی اینجلو نے کہا کہ انہیں امریکی محکمہ خارجہ نے بطور امریکی کاروباری شخصیت پاکستان مدعو کیا تاکہ وہ اپنے تجربات پاکستانی طلبہ، نوجوان کاروباری افراد اور اسٹارٹ اپس کے ساتھ شیئر کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی مہارت نئی مصنوعات کو مارکیٹ میں متعارف کرانے کی حکمت عملی، کاروباری قیادت اور ابتدائی مرحلے کے کاروباروں کی ترقی میں ہے۔ وہ اس دورے کے ذریعے پاکستان میں کاروباری صلاحیتوں کو فروغ دینے اور مقامی کاروباری افراد کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے کے امکانات پر کام کر رہے ہیں۔
ڈیو ڈی اینجلو نے بتایا کہ وہ لاہور، کراچی، حیدرآباد اور اسلام آباد کا دورہ کر چکے ہیں جہاں لیکچرز، تربیتی ورکشاپس، گول میز کانفرنسوں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ نشستوں کا اہتمام کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان سرگرمیوں کا مقصد پاکستانی نوجوانوں اور پیشہ ور افراد کو کاروبار شروع کرنے، اسے وسعت دینے اور بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنے کے نئے طریقوں سے روشناس کرانا تھا۔
پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں غیر معمولی ٹیلنٹ موجود ہے۔ ان کی متعدد پاکستانی کاروباری افراد سے ملاقات ہوئی جو ایسے تکنیکی حل تیار کر رہے ہیں جنہیں عالمی سطح پر بالخصوص بزنس ٹو بزنس مارکیٹ میں فروخت کیا جا سکتا ہے۔
ان کے بقول پاکستان میں درجنوں ایسی کمپنیاں موجود ہیں جن کی مصنوعات مضبوط ہیں، جو اپنے صارفین کی ضروریات کو سمجھتی ہیں، گاہک بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور اچھی ٹیموں کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ ان میں سے کئی کمپنیاں امریکی مارکیٹ میں بھی اپنی جگہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کاروباری ماحول بتدریج ترقی کر رہا ہے اور جامعات، انکیوبیشن سینٹرز اور دیگر ادارے نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے کے لیے وسائل فراہم کر رہے ہیں۔ نئے کاروباری افراد کو چاہیے کہ وہ تجربہ کار لوگوں سے رہنمائی حاصل کریں، اپنی مصنوعات کو پیش کرنے اور فروخت کرنے کی صلاحیت بہتر بنائیں اور دستیاب وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ڈیو ڈی اینجلو کے مطابق کسی بھی کاروبار کی کامیابی کا بنیادی انحصار اعتماد اور تعلقات پر ہوتا ہے۔ کاروباری افراد کو ابتدا ہی سے اپنی کمیونٹی میں اعتماد پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ روایتی انداز میں کسی گاہک سے براہ راست مصنوعات خریدنے کی درخواست کرنے کے بجائے پوڈکاسٹ، ویبینار، لنکڈ اِن، کاروباری تقریبات اور ایگزیکٹو ڈنرز کے ذریعے تعلقات استوار کرنا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس طریقے سے کاروباری شخص اپنی مہارت اور اعتبار منواتا ہے اور ممکنہ گاہکوں کے ساتھ طویل مدتی تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔
پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ نئے کاروبار کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آیا اس کی مصنوعات یا خدمات کے لیے حقیقی گاہک موجود ہیں۔
انہو ںے کہا ہے کہ ہر کاروبار کو لازماً ابتدائی مرحلے میں بڑے سرمایہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کا مزید کہنا تھا بعض اوقات گاہکوں کا اعتماد حاصل کرکے، اپنی مصنوعات کی افادیت ثابت کرکے اور فروخت کا مؤثر نظام قائم کرکے بھی کاروبار کو منافع بخش بنایا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق سرمایہ کاروں سے رابطے اہم ہیں لیکن کاروباری افراد کو پہلے اپنی مصنوعات اور مارکیٹ کی ضرورت کو سمجھنا چاہیے۔
امریکی وینچر کیپٹل مارکیٹ کے ساتھ پاکستانی کاروباری افراد کو جوڑنے کے لیے امریکی سفارت خانے کے پروگرام کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈیو ڈی اینجلو نے کہا کہ انہیں اس پروگرام کی تفصیلات سے زیادہ آگاہی نہیں تاہم یہ ایک مثبت اقدام دکھائی دیتا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکی سفارتخانے کا اسٹیم بلڈر پروگرام اختتام پذیر، 100 سے زائد نوجوانوں نے جدت کے گر سیکھ لیے
ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی اسٹارٹ اپس کو امریکی سرمایہ کاروں کے نیٹ ورک تک رسائی ملتی ہے تو اس سے انہیں سرمایہ کاری اور کاروبار میں توسیع کے نئے مواقع حاصل ہو سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا میں دنیا کی بڑی وینچر کیپٹل مارکیٹ موجود ہے اور اس کے ساتھ روابط پاکستانی کمپنیوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے دیہی اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے چھوٹے کاروباروں کے فروغ کی مثال دیتے ہوئے مائیکرو فرنچائزنگ کا تصور بھی پیش کیا۔
ان کے مطابق امریکا میں انہوں نے ایک افغان مہاجر کو گاڑیوں کی تفصیلی صفائی کا کاروبار شروع کرنے میں مدد دی۔ پہلے اس شخص نے ان کی گاڑی کی صفائی کا کام کیا، جس پر اسے معاوضہ اور پیشہ ورانہ رائے دی گئی اور بعد ازاں اسے مختلف کاروباری اداروں اور ممکنہ گاہکوں سے متعارف کرایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح اسے کاروباری آئیڈیا کے ساتھ گاہکوں تک رسائی بھی حاصل ہوئی۔ ان کے خیال میں اس طرز کا ماڈل پاکستان کے دیہی علاقوں میں بھی روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے روایتی ملازمتوں پر اثرات کے حوالے سے ڈیو ڈی اینجلو نے کہا کہ اے آئی کو انسانی صلاحیتوں کا متبادل بنانے کے بجائے انہیں بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
ان کے مطابق کمپنیوں کو اپنے ملازمین کو نئے ہنر سکھانے اور بدلتے ہوئے کاروباری تقاضوں کے مطابق ان کے کردار تبدیل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے ملازمین کو مشورہ دیا کہ وہ مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھیں، اپنی مہارتوں کو مسلسل بہتر بنائیں اور خصوصاً فروخت اور انسانی رابطوں سے متعلق صلاحیتوں پر توجہ دیں کیونکہ کاروباری دنیا میں اعتماد اور انسانی تعلقات کی اہمیت برقرار رہے گی۔
بزنس پوڈکاسٹ کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کاروباری رہنما اپنے تجربات، خیالات اور کامیابیوں کو وسیع حلقے تک پہنچانے کے لیے اس ذریعے کو استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے ایک امریکی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کی مثال دی جس نے 4 برس میں اپنے کاروبار کو صفر سے بڑھا کر 250 ملین ڈالر تک پہنچایا۔ اس کمپنی کے سربراہ نے ایک اہم عہدے کے لیے امیدواروں کے روایتی سی وی دیکھنے کے بجائے ان کے خیالات اور سوچ کو سمجھنے کے لیے پوڈکاسٹ گفتگو سے مدد لی۔
ڈیو ڈی اینجلو کے مطابق ڈیجیٹل دنیا میں کاروباری شخصیات کی موجودگی اور ان کے تجربات تک رسائی مستقبل میں پیشہ ورانہ مواقع حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
پاکستان میں بزنس پوڈکاسٹ کے امکانات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ہزاروں نوجوان کاروبار شروع کرنے کے خواہش مند ہیں یا پہلے ہی اس شعبے میں کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان کی کہانیاں، کامیابیوں کے تجربات اور کاروباری مشکلات کے حل کو مؤثر انداز میں پیش کیا جائے تو بزنس پوڈکاسٹ نوجوانوں کے لیے سیکھنے اور آگے بڑھنے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتے ہیں۔
ڈیو ڈی اینجلو نے پاکستان میں اپنے تجربات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں انہیں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت افراد سے ملنے اور کاروباری ماحول کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔
یہ بھی پڑھیے: اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب عاصم افتخار کا نوجوانوں کو عالمی قیادت کے لیے آگے بڑھنے کا پیغام
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ، کاروباری جذبے اور عالمی مارکیٹ تک رسائی کے امکانات موجود ہیں تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کو درست رہنمائی، اعتماد، روابط اور مواقع فراہم کیے جائیں۔










