پاکستان میں بینکوں، بجلی کے نیٹ ورکس اور اہم قومی تنصیبات پر اے آئی سائبر حملوں کا خطرہ، سائبر کرائم ایجنسی کی ایڈوائزری جاری

جمعہ 6 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے نئے سائبر خطرات کے پیش نظر ایڈوائزری جاری کردی ہے، جس میں مالیاتی اداروں اور اہم قومی تنصیبات کو ممکنہ حملوں سے خبردار کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ بینکوں کے کور بینکنگ سسٹمز، ڈیجیٹل بینکنگ پلیٹ فارمز، ادائیگی کے نظام اور صارفین کی موبائل ایپلی کیشنز سائبر حملہ آوروں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تیل و گیس کی تنصیبات، پانی کی فراہمی کے نظام، بجلی کی پیداوار و تقسیم، صنعتی اداروں اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت، خودکار بوٹس، بوٹ نیٹس اور ایجنٹک ٹولز کے استعمال سے سائبر حملوں کی رفتار اور پیچیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔ بینکوں کے ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس اور ادائیگی کے نظام میں مداخلت کے ذریعے صارفین کے اکاؤنٹس اور مالیاتی معلومات کو متاثر کرنے کا خدشہ ہے۔ اکاؤنٹس میں ظاہر ہونے والی رقوم کے بیلنس میں ردوبدل سے صارفین میں خوف و ہراس بھی پھیلایا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فرانس: سینکڑوں سپر مارکیٹس پر سائبر حملہ، ریفریجریٹرز تپتے اوون میں تبدیل، لاکھوں یوروز کی خوراک ضائع

ایڈوائزری میں مالیاتی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خودکار لاگ اِن کی کوششوں، بار بار ناکام تصدیق، بڑی تعداد میں صارفین کی اسناد آزمانے، غیر معمولی اے پی آئی درخواستوں، ایپلی کیشنز کی ترتیبات میں تبدیلی اور مشکوک مالی لین دین پر کڑی نظر رکھیں۔

ایڈوائزری میں یورپ کے سپرمارکیٹس کے ریفریجریشن اور فریزر سسٹمز پر ہونے والے سائبر حملوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جن سے کاروباری سرگرمیاں اور متعلقہ آپریشنل نظام متاثر ہوئے۔ تاہم ان واقعات میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی تاحال تصدیق نہیں ہوسکی۔

قومی سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے اداروں کو صارفین کی ایپلی کیشنز اور بینکنگ ریکارڈ کی درستگی یقینی بنانے، مالی لین دین کی آزادانہ جانچ اور خودکار بوٹس کے ذریعے ہونے والی مشکوک سرگرمیوں کی نگرانی کی سفارش کی ہے۔ اس کے علاوہ اداروں کو اے آئی کے ذریعے ممکنہ سائبر حملوں سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاریوں کا جائزہ لینے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp