پاکستان کی ثالثی سے ایران اور امریکا مذاکرات کی میز پر آئے، ترجمان دفتر خارجہ

جمعہ 6 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے حل کے لیے مخلص ثالث کی حیثیت سے ہر ممکن سہولت فراہم کی اور 47 سال سے ایک دوسرے سے بات نہ کرنے والے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے جنگ نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات اور سفارت کاری ہی تنازعات کا حل ہیں۔

دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان نے بتایا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان کی امن کوششوں کا ثبوت ہیں۔ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں اور سہولت کاری جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکراتی عمل میں وقت لگ سکتا ہے، اس دوران انتہائی اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔ جوہری حملے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر قیاس آرائی یا تبصرہ مناسب نہیں۔

ترجمان کے مطابق آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ نے اہم علاقائی اور عالمی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع، اسرائیل فلسطین صورتحال، یمن میں حوثی حملوں اور آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحیرہ احمر میں بحری سلامتی کے امور زیر بحث آئے۔ وزرائے خارجہ نے مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پرامن حل کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے علاقائی امن کے لیے مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت سندھ طاس معاہدے سے متعلق فیصلے کو مسترد نہیں کرسکتا، ترجمان دفتر خارجہ

اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ جنرل اسمبلی کی فرسٹ کمیٹی نے پاکستان کی پیش کردہ 3 قراردادیں منظور کرلیں۔ علاقائی اور ذیلی علاقائی سطح پر اعتماد سازی کے اقدامات سے متعلق قرارداد بغیر ووٹنگ منظور ہوئی، جب کہ روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول کی قرارداد 180 ووٹوں سے منظور کی گئی۔ اس کے خلاف صرف بھارت اور اسرائیل نے ووٹ دیا۔ غیر جوہری ممالک کو جوہری ہتھیاروں کے استعمال یا دھمکی سے تحفظ دینے کی قرارداد بھی 122 ووٹوں سے منظور ہوئی اور اس کی مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سلامتی کونسل نے 5 نومبر کو پاکستان کی پیش کردہ سفارتکاری سے متعلق صدارتی بیان اتفاق رائے سے منظور کیا۔ بیان میں ثالثی، سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے تسلسل کی اہمیت اجاگر کی گئی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستانی انسداد دہشتگردی کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں کے الزامات بے بنیاد اور غیر مصدقہ ہیں۔ افغان سرزمین سے سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کا خطرہ گمراہ کن پروپیگنڈے سے چھپایا نہیں جاسکتا۔ ان کے مطابق پاکستان میں دہشتگرد حملوں کے نتیجے میں 3 ہزار 500 سے زائد جانی نقصانات ہوچکے ہیں، جب کہ صرف 2026 میں 1,400 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے۔

ترجمان نے سعودی عرب کے مکہ اور مدینہ ریجنز کو نشانہ بنانے والے حوثی میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 26 اکتوبر کے حملے سعودی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا اور مقدس مقامات کی حرمت و شہریوں کی سلامتی کو نظرانداز کرنے کو ناقابل قبول قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ جمعے کی شب خلیج فارس کے بین الاقوامی پانیوں میں سفر کرنے والے پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایل این جی بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ جہاز پر 25 رکنی عملے میں پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔ حملے سے معمولی آگ لگی تاہم تمام اہلکار محفوظ رہے اور جہاز بحفاظت قطر واپس پہنچ گیا۔ متعلقہ پاکستانی حکام واقعے کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے فریقین سے رابطے میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آئندہ سال شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس پاکستان میں ہوگا، ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی

ترجمان نے اردن میں چرچ کے جنازے کے جلوس پر دہشتگرد حملے کی بھی مذمت کی اور اردن کی حکومت، عوام اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اردن کے ساتھ کھڑا ہے۔

پاکستان اور برطانیہ کے سالانہ انسداد دہشتگردی مذاکرات 4 نومبر کو اسلام آباد میں ہوئے، جن میں دونوں ملکوں نے دہشت گردی کی تمام شکلوں کے خلاف مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت 4 نومبر کو قومی آبی سلامتی سے متعلق اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں آبی حقوق کے قانونی، سفارتی اور تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن نے 30 اکتوبر کو پاکستان کا سرکاری دورہ کیا، جب کہ پاکستان نے اس سال سکھ اور مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے 9 ہزار سے زائد بھارتی شہریوں کو ویزے جاری کیے ہیں۔ کرتار پور راہداری کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے راہداری کھلی ہے، جب کہ بھارت نے اسے بند کر رکھا ہے

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp