سپریم کورٹ نے ملزم کی ضمانت منسوخ کرنے کے لیے 8 اصول طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر ضمانت کا حکم بادی النظر میں غیر قانونی یا ناانصافی پر مبنی ہو، ملزم ضمانت کی رعایت کا ناجائز استعمال کرے یا گواہوں اور شواہد پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرے تو اس کی ضمانت منسوخ کی جا سکتی ہے۔
عدالت عظمیٰ نے بجلی کی غیر قانونی فراہمی کے دوران ایک شخص کی ہلاکت سے متعلق مقدمے میں سندھ ہائیکورٹ کا ملزم کو ضمانت دینے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر کے تحریر کردہ فیصلے میں سپریم کورٹ نے ملزم کی ضمانت منسوخ کرنے کے لیے 8 اصول بیان کیے ہیں۔
عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ اگر ضمانت کا حکم بادی النظر میں غیر قانونی یا ناانصافی پر مبنی ہو تو ضمانت منسوخ کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح اگر ملزم ضمانت کی رعایت کا ناجائز استعمال کرے تو بھی اس کی ضمانت منسوخ ہوگی۔
فیصلے کے مطابق اگر ملزم استغاثہ کے گواہوں پر دباؤ ڈال کر شواہد کو متاثر کرنے یا ان میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے تو ضمانت منسوخ کی جا سکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر اس بات کا امکان ہو کہ ملزم عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر فرار ہو جائے گا تو اس کی ضمانت منسوخ ہوگی۔
عدالت کے مطابق ملزم کی جانب سے تفتیش کے شفاف عمل میں مداخلت کرنے کی کوشش بھی ضمانت کی منسوخی کی بنیاد بن سکتی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اگر ملزم اپنی آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اسی نوعیت کے کسی دوسرے جرم کا ارتکاب کرے تو اس کی ضمانت منسوخ ہوگی۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ دوران تفتیش نئے حقائق اور شواہد سامنے آئیں جو ملزم کے جرم میں ملوث ہونے کی نشاندہی کرتے ہوں تو بھی ضمانت منسوخ کی جا سکتی ہے۔
لاڑکانہ میں بجلی کی تار ٹوٹنے سے شہری کی ہلاکت کا مقدمہ
سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کے ملزم کی ضمانت سے متعلق فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ مقدمے کی ایف آئی آر درج کرنے میں 9 ماہ کی تاخیر ہوئی، جبکہ ملزم کا کردار مزید تحقیق کا تقاضا کرتا ہے۔
مقدمے کی تفصیلات کے مطابق لاڑکانہ کے رحمت پور تھانے میں درج ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ واقعہ 3 مارچ 2024 کو پیش آیا تھا۔
مقدمے کے مطابق ڈسپوزل فیز سے خصوصی لائن کھینچ کر دکانوں کو بجلی فراہم کی جا رہی تھی کہ اس دوران تار ٹوٹنے سے نور حسین نامی شخص جاں بحق ہوگیا۔
سیشن جج لاڑکانہ نے 30 جنوری 2025 کو ملزم علی اصغر کھوکھر کی قبل از گرفتاری ضمانت مسترد کر دی تھی۔
بعد ازاں سندھ ہائیکورٹ سرکٹ کورٹ لاڑکانہ نے 20 اکتوبر 2025 کو ایف آئی آر کے اندراج میں 9 ماہ کی تاخیر اور دیگر وجوہات کی بنیاد پر ملزم کی ضمانت منظور کر لی تھی۔
ملزم کی ضمانت منسوخ کرانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا، تاہم عدالت عظمیٰ نے سندھ ہائیکورٹ کا ضمانت دینے کا فیصلہ برقرار رکھا۔
بجلی کی غیر قانونی فراہمی میں ملوث افراد کے کردار کا جائزہ لینے کی ہدایت
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کی نقل چیئرمین واپڈا کو معلومات کے لیے ارسال کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ بجلی کی غیر قانونی فراہمی، بجلی چوری اور نجی طور پر بجلی کی غیر قانونی منتقلی (پرائیویٹ سائفننگ) میں ملوث افراد کے کردار کا واپڈا اور متعلقہ یوٹیلیٹی کمپنی جائزہ لے۔











