خیبرپختونخوا میں پولیس کی 10 ہزار سے زیادہ اسامیاں خالی ہونے کا انکشاف، دہشتگردی کے خلاف نئی حکمت عملی تیار کرلی گئی

ہفتہ 7 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا میں دہشتگردی پر قابو پانے کے لیے نئی حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے، جس کے تحت دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں اضافہ، ان کے سہولت کاروں کی گرفتاری اور جنوبی اضلاع میں اینٹی ڈرون سسٹم نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب صوبے میں پولیس کی 10 ہزار سے زیادہ جبکہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی 638 آسامیاں تاحال خالی ہیں۔

گورنر ہاؤس پشاور میں سیکیورٹی سے متعلق بریفنگ کے دوران سیکریٹری داخلہ امجد علی خان نے بتایا کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران صوبے میں 3 ہزار 788 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا، جبکہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 1200 اہلکار شہید ہوئے۔

مزید پڑھیں: دہشتگردی کے سہولتکاروں میں ایک نااہل اور لاتعلق خیبرپختونخوا حکومت بھی تھی، ڈی جی آئی ایس پی آر

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ اور افغان مہاجرین کی واپسی جیسے اہم معاملات پر سابقہ صوبائی حکومت کی جانب سے مطلوبہ تعاون حاصل نہیں ہو رہا تھا۔

ان کے مطابق ضم اضلاع کے لیے سابقہ حکومتوں کے ادوار میں پولیس کے بجٹ کا صرف 3.2 فیصد مختص کیا جاتا رہا، جبکہ 22 اضلاع کے لیے غیر فعال صوبائی حکومت نے 6 ارب 40 کروڑ روپے مختص کیے، تاہم ان میں سے صرف ایک ارب روپے جاری کیے گئے۔

سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ صوبے میں پولیس کی 10 ہزار سے زیادہ اور سی ٹی ڈی کی 638 آسامیاں خالی ہیں، جبکہ پولیس کو مجموعی افرادی قوت کی 15 فیصد کمی کا سامنا ہے، جسے کم کرکے 5 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ حکومت رواں مالی سال کے دوران پولیس کو 70 ارب روپے جبکہ سی ٹی ڈی کو 10 ارب 30 کروڑ روپے فراہم کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور بنوں میں اینٹی ڈرون سسٹم بھی نصب کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں اضافہ کیا جائے گا اور دہشتگردوں کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائیاں تیز کی جائیں گی۔

اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔

گورنر نے الزام عائد کیا کہ افغانستان، بھارت اور اسرائیل دہشتگردی کے حوالے سے ایک دوسرے کی سہولت کاری کر رہے ہیں اور ڈرونز بھی وہاں سے بھیجے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ صوبائی حکومت نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ریاست کا ساتھ نہیں دیا، تاہم موجودہ انتظامیہ گزشتہ حکومت کے اچھے اقدامات کو جاری رکھے گی۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پولیس کو مکمل حکومتی تعاون فراہم کرنے کے ساتھ جدید اسلحہ بھی دیا جائے گا، جبکہ امن کے قیام کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ساتھ سیاسی قیادت کی اونرشپ بھی یقینی بنائی جائے گی۔

گورنر نے مزید کہا کہ پولیس میں خالی آسامیوں کی تعداد 10 ہزار نہیں بلکہ 17 ہزار ہے، جنہیں جلد پُر کیا جائے گا۔ انہوں نے وفاق سے صوبے کے وسائل حاصل کرنے کے لیے بھی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا: پولیس نے دہشتگردی سے متاثرہ 12 اضلاع کے لیے 40 ارب روپے مانگ لیے، یہ رقم کہاں خرچ ہوگی؟

گورنر نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا اپنا سیاسی مؤقف اور مقام ہے، لیکن ان کی وجہ سے حکومتی امور نہیں روکے جا سکتے۔

انہوں نے سیاسی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ دوسروں کے بچوں کو جہاد کے لیے بھیجتے ہیں جبکہ اپنے بچوں کو یورپ اور ترکی بھیجتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp