قندیل بلوچ کو انصاف ملے گا ؟

ہفتہ 15 جولائی 2023
author image

ثنا ارشد

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کاش! کبھی اس پر بھی سروے ہو کہ گھر سے نکلنے والی عورت کو اپنی زندگی میں کن کن دریاؤں کو عبور کرنا پڑتا ہے۔ کیریر میں اپنا آپ منوانے کے لیے کن کن مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ سروے کیا جائے تو پتا چل جائے کہ گھر سے نکلنے والی لڑکی کو کیسے کیسے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔ بہت آسانی سے دیے جانے والے بعض القابات ایسے ہیں جو زندگی کا روگ بن جائیں لیکن کبھی کسی نے سوچا کہ کیسا گہرا گھاؤ دیتے ہیں یہ القابات؟

میں فیمینسٹ ہوں نہ ہی اس کے لیے کام کرنے والوں کے ساتھ زیادہ متفق رہتی ہوں لیکن کیا اس حقیقت سے آنکھیں چرائی جا سکتی ہیں کہ آج بھی گھر سے نکلنے والی عورت ’بری‘ عورت تصور ہوتی ہے؟ ہم اکیسویں صدی میں رہتے ہیں، لیکن آج بھی چار دیواری سے قدم باہر نکالنا، اپنی مرضی سے زندگی گزارنا، سوشل میڈیا کا استعمال اورمن پسند جیون ساتھی کے انتخاب جیسی بے شمار خطاؤں کے جرم میں خونی رشتے بھی آنکھیں پھیر لیتے ہیں، اور بعض اوقات تو ان ’خطاؤں‘ کی پاداش میں عورت قبر میں اُتار دی جاتی ہے۔ اور یہ کوئی اور نہیں، اپنے خونی رشتے ہوتے ہیں جن کی نام نہاد غیرت ایک دم جاگ اٹھتی ہے۔ وہ غیرت جو ہمیشہ سوئی رہتی ہے، کبھی نہیں جاگتی، جہاں جاگنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

غیرت کے نام پر ایسا ہی ایک قتل سوشل میڈیا پر مقبول متنازع شخصیت قندیل بلوچ کا ہوا۔ 15 جولائی 2016ء کو قتل ہونے والی قندیل بلوچ نے اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے شوبز کی دنیا میں قدم رکھا۔ ایک غریب خاندان سے تعلق، کچھ کرنے اور کرگزرنے کا جذبہ لیے۔ لیکن پھر سوشل میڈیا کا ایسا بے باکانہ استعمال کیا کہ نتیجہ موت کی صورت نکلا۔، آج قندیل کی موت کو 7 برس ہونے کو ہیں۔ وہ منوں مٹی نیچے چلی گئی ہے۔ لیکن اب بھی یہ راز ہی ہے کہ کیا وہ ’قتل غیرت‘ کا نشانہ بنی یا پھر اس کے پیچھے کچھ اور کہانی بھی تھی؟ وہ کہانی جو شاید کبھی منظرعام پر عام نہ آسکے۔

قندیل بلوچ کو وہی تماشائی قبول نہ کر پائے جنہوں نے اسے اسٹار بنایا تھا۔ وہی تماش بین جو اس کے لباس اور حرکات پر تنقید کرتے تھے اس کی ویڈیوز کو لازمی دیکھتے تھے، جس سے قندیل کی شہرت میں بے پناہ اضافہ ہوا، اور وہ لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے نِت نئے طریقے ڈھونڈنے لگی۔ پھر بولڈ لباس اور متنازع ویڈیوز سے شہرت حاصل کرنے والی قندیل بلوچ کو اس کے بھائی نے غیرت کے نام پر گلا دبا کے قتل کردیا اور یوں راتوں رات اسٹار بننے کی خواہش میں وہ موت کے منہ میں چلی گئی۔ یہاں پولیس نے اس نکتے پر کام نہیں کیا کہ بے روزگار بھائی سمیت گھر کی واحد کفیل قندیل ہی تھی، اس وقت کسی کی غیرت نہیں جاگی۔ یقیناً نیک نیتی سے تفتیش کی جاتی تو ثابت ہو جاتا کہ غیرت کو جگایا گیا تھا۔

قتل سے قبل قندیل بلوچ سوشل میڈیا پر چھائی ہوئی تھیں، پنکی پیرنی کا نام بھی سب سے پہلے قندیل نے میڈیا کی زینت بنایا تھا۔ عمران خان سے شادی کی خواہش ظاہر کرنے کے بعد ہر طرف ان کا چرچا تھا اور پھر شہرت کی بلندیوں پر پہنچانے والے مفتی قوی تھے۔ جن کے ساتھ اداکارہ و ماڈل کی سیلفیاں جنگل میں آگ کی طرح پھیلیں اور انہیں دنیا بھر میں مشہور (رسوا) کر دیا۔ مفتی قوی بھی بدنامی کی بلندیوں میں مست رہے، پھر مذہبی حلقوں کی جانب سے تنقید پر انہیں رویت ہلال کمیٹی کی رکنیت سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔

مذہبی شخصیت کے ساتھ وائرل ہونے والی تصاویر کے بعد قندیل بلوچ نے سیکیورٹی کا مطالبہ کیا کہ مجھے قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں لیکن سیکیورٹی تو شاید باہر والوں سے بچاؤ کے لیے مددگار ثابت ہوتی پے۔ اس سے قبل ہی سگے بھائی نے گلا گھونٹ کر اسے ابدی نیند سلا دیا اور پھر بیان دیا کہ میری بہن نے مفتی قوی کے ساتھ سیلفیاں بنا کر انہیں بدنام کیا، سوشل میڈیا پر ان کی بے باک ویڈیوز خاندان کی بدنامی کا باعث بن رہی تھیں۔ قندیل بلوچ کے والدین نے بھی قتل کی ذمہ داری مفتی قوی کے سر ڈالی تھی کہ انہوں نے قتل پر اکسایا تھا۔

لیکن طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی قاتلوں کو سزا نہ ہوئی کیونکہ اپنے بیٹے کو بہن کے قتل میں نامزد کرنے والے والدین ہی اس کی رہائی کے لیے کوششیں کرتے نظر آئے۔ (میری رائے آج بھی یہی ہے کہ یہ بہت بڑا کھیل تھا جو پہلے سے طے شدہ تھا کہ بھائی غیرت کےنام پر قتل کرے گا پھر والدین اسے سزا سے بچا لیں گے، اور یہی ہوا) شک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مفتی قوی بھی باعزت بری ہو گئے لیکن قندیل بلوچ کی موت اور قاتلوں کی رہائی بہت سے سوالات چھوڑ گئی۔ جن کا جواب قتل کے اتنے برسوں بعد بھی نہیں مل سکا کہ قاتل کون تھا؟

وہ بھائی جس کے نے گلا گھونٹ کر اپنی بہن کو موت کے گھاٹ اتار دیا، وہ مفتی قوی جس کی وجہ سے قندیل کے اہلخانہ اس کے خلاف ہوگئے تھے، وہ والدین جنہوں نے بیٹی کی موت کو بھلا کر اپنے بیٹے کو معاف کر دیا؟ وہ ریاست جو اس کیس کی درست طریقے سے پیروی کرنے میں مکمل ناکام رہی اور قندیل بلوچ کو انصاف نہ دلوا سکی یا پھرانصاف فراہم کرنے والی وہ عدالتیں جنہوں نے اعتراف جرم کے بعد بھی مجرم کو رہا کر دیا۔ مظلوم کو انصاف دینے اور آئین شکنی پر سزا دینے والی عدلیہ نے ’فساد فی الارض‘ جیسی شہادت پیش ہونے کے باوجود ملزم کو کیسے بخش دیا؟

ان سوالات کے جواب ملتے بھی کیسے کیونکہ سارا معاشرہ بشمول انصاف کے ادارے اس جرم میں برابر کے شریک ہیں، قانون تو موجود ہے لیکن قاتل کو سزا نہیں ملی، مدعی، گواہ اور قاتل سب سامنے ہیں لیکن انصاف نہ مل سکا اور یہ انصاف کب ملے گا معلوم نہیں؟ اس سے قبل بھی ایسی ہی ہزاروں قندیلیں قتل ہو چکی ہیں اور نجانے آئندہ بھی کتنی ہوں گی۔ جب تک ریاست انصاف فراہم نہیں کرتی اس وقت تک کسی نہ کسی قندیل کا قتل ہوتا رہے گا۔ غیرت کے نام پر معصوموں کا خون بہتا رہے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم