سیاست سے ہٹ کے

جمعرات 20 جولائی 2023
author image

محمد وقاص اعوان

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یہ جمعے کا دن تھا، دن بھر شدید گرمی رہی مگر شام کو اسلام آباد اور گرد نواح میں ساون کی بارش ہوئی جس سے موسم خوشگوار ہو گیا اور اہل و عیال کے ساتھ عاشر کے گھر جا پہنچے جسے پیار سے سب عاشو میاں کہتے ہیں۔ عمر میں کوئی 10 سال کے ہوں گے مگر ان کے خواب اور ارادوں نے مجھے بھی خوب متاثر کیا۔

میں چند لمحے ان کی خواہش کو لے کر سکتے میں رہا اور دل سے دعا کی کہ ہمارے ارادے اور خواہشات بھی کچھ ایسی ہی ہوں، عاشو میاں کے پاس ایک خاص قسم کا پرس تھا جس میں ہزار ہزار کے چند نوٹ اور کچھ پانچ سو کے تھے۔ اور ان کے مطابق یہ کوئی 12 ہزار 5 سو روپے کی رقم تھی۔

میں ویسے تو ان کے گھر مہمان تھا مگر بے تکلفی بھی تھی۔ میں نے ان سے تقاضہ کیا کہ یہ پیسے مجھے دے دیں تا کہ میں اچھا سا ڈنر کر سکوں، انہوں نے انکار نا کیا مگر خاموش رہے میں نے پھر اسرار کیا کہ آپ مجھے خود ساتھ لے چلیں تاکہ میں اچھا سا کھانا کھا لوں۔ اب کی بار اُس معصوم سے رہا نہ گیا۔

عاشو میاں بولے یہ پیسے میرے کم ہو جائیں گے میں یہ جمع کر رہا ہوں میں نے عمرے پر جانا ہے۔ مگر شاید جب تک جمع ہوں گے عمرہ اور مہنگا ہو جائے گا، عمر 10 سال، معصوم سا چہرہ اور خواہش بھی وہ جسے سنتے ہی انسان دنگ رہ جائے۔

جس عمر میں انہیں کھیل کود سے فرصت نہیں ہونی چاہیے اس وقت ان کی خواہش اللہ اور اس کے نبی کے گھر کی حاضری ہے۔ شاید یہ بُلانے والوں کی دین ہے کہ وہ جسے چاہتے ہیں ان کے بلاوے کا بندوبست بھی ہو ہی جاتا ہے۔

یہاں یہ مثال عاشو میاں کے جذبے کی تھی جو انہوں نے ننھی سی عمر میں اور کوئی خواہش رکھی ہی نہیں۔ بس اسی حسرت کے ساتھ کچھ رقم جوڑ رہا ہے کہ اللہ کے دربار میں حاضری ہو جائے۔

اس گفتگو کے دوران وہ اپنے کھیل میں مگن تھا اور میں کافی دیر اس کے چہرے کو حسرت بھری نگاہ سے دیکھ رہا تھا کہ ایک روز جب اس کی خواہش پوری ہو گی تو حرم میں حاضری کے وقت اس کی آنکھوں کا منظر کیا ہو گا۔ اس کے دل میں کیا سکوں اور خوشی ہو گی۔

جانے کا وقت تھا میں نے پھر کہا کہ عاشو میاں تھوڑے سے پیسے دے دیں تو کہنے لگے کم ہو جائیں گے۔ گاڑی آگے چلی لیکن میں اسی معصوم کے الفاظ میں گم تھا کہ زندگی کے جمبھیلوں سے نکل کر اور بھی بڑی خواہشات بھی رکھنی چاہئیں۔

عاشر کو یہ سوچ کسی اور نے دی ہو یا نا دی ہو مگر یہ والدین کی تربیت کا اثر ان کی دعائیں اور ماحول بھی ہو گا جس نے تڑپ پیدا کردی، دعا کرتا ہوں کہ اس کے پیسوں کا پرس جلد بھر جائے اور اس کی اللہ کے گھر جانے کی مراد بر آئے۔

ایک شعر چلتے چلتے یاد آ گیا۔
تمھارا کام ہے بس ان کے در کی آرزو رکھنا
یہ ان کا کام ہے خواہش کی آبرو رکھنا

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سماء نیوز کے ساتھ گزشتہ 8 برس سے بطور پروڈیوسر وابستہ ہیں۔ اس سے قبل دیگر میڈیا چینلز کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈونلدٹرمپ کے مشرقی ونگ بال روم منصوبے کے خلاف وائٹ ہاؤس پر مقدمہ

خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان کا 18 سالہ خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے بنگلہ دیش واپسی کا اعلان

اشک آباد، شہباز شریف اور پیوٹن کی ملاقات میں دیر تک ہاتھ ملے رہے

ڈھاکہ، انقلاب منچ کے ترجمان پر قاتلانہ حملہ، چیف ایڈوائزر کی مذمت

صدر ٹرمپ کا ایک مہینے میں دوسری بار تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں جنگ بندی کا اعلان

ویڈیو

فیض حمید کے بعد جنرل باجوہ کی باری آگئی؟ علی امین گنڈاپور کی پی ٹی آئی سے چھٹی

پاکستان میں کون سی سولر ٹیکنالوجی سب سے کار آمد؟

پنجاب یونیورسٹی کا پی سی ڈھابہ، جس کی دال بھی بےمثال

کالم / تجزیہ

افغان علما کا فتویٰ: ایک خوشگوار اور اہم پیشرفت

ٹرمپ کی نیشنل سیکیورٹی اسٹریٹجی کا تاریخی تناظر

سیٹھ، سیاسی کارکن اور یوتھ کو ساتھ لیں اور میلہ لگائیں