پاکستان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین کا منصب تاحیات بانی چیئرمین عمران خان کے لیے ہے۔ کور کمیٹی اجلاس کے بعد یہ متفقہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔
کور کمیٹی اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا ہے کہ انتخابات کو التوا میں ڈالنے کی ہر کوشش کے خلاف بھرپور قانونی و سیاسی مزاحمت کی جائے گی۔ قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد انتخابات ہر صورت 90 روز کے اندر ہونے چاہییں۔
پی ٹی آئی نے چیئرمین عمران خان کی منظوری سے مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں کو عدالتِ عظمیٰ کے روبرو چیلنج کرنے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی اجلاس کا اعلامیہ pic.twitter.com/OdJfpHGcSR
— PTI (@PTIofficial) August 8, 2023
اجلاس میں چیئرمین عمران خان کی جیل سے بھجوائی گئی خصوصی ہدایات کی روشنی میں یومِ آزادی کو بھرپور انداز میں منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف پاکستان اور دنیا بھر میں یومِ آزادی کی مناسبت سے خصوصی تقریبات منعقد کرے گی۔
پی ٹی آئی کور کمیٹی کے مطابق بنیادی حقوق اور شخصی آزادیوں کے تحفظ کے لیے آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں کی گئی ترامیم کو بھی عدالتِ عظمیٰ کے روبرو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کی کور کمیٹی نے کہا کہ فسطائی سرکار کی جانب سے قوانین کو خون آشام بنانے کے سلسلے کی راہ روکیں گے اور حقوق و شخصی آزادیوں کا ہر حال میں تحفظ کریں گے۔
تحریک انصاف کو ’بلّے‘ کے انتخابی نشان سے محروم کرنے کی ہر کوشش کے خلاف بھی بھرپور مزاحمت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کور کمیٹی نے کہا کہ بلے کا انتخابی انشان بطور جماعت ہمارا حق ہے، سلب کرنے کی قابلِ مذمّت کوشش کی گئی تو ہر ممکن قانونی و سیاسی طریقے سے چیلنج کریں گے۔
اجلاس میں قانونی ٹیم کی جانب سے توشہ خانہ فیصلے کے خلاف اپیل، چیئرمین عمران خان سے جیل میں وکلا و دیگر کی ملاقاتوں سمیت متعلقہ امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔














