ایجنسیاں ہمارے لوگوں کو توڑ رہی تھیں، جنرل باجوہ کہہ رہے تھے ہم نیوٹرل ہیں، عمران خان

پیر 2 جنوری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ایجنسیاں ہمارے لوگوں کو توڑ رہی تھیں لیکن جنرل (ر) باجوہ کہہ رہے تھے کہ ہم نیوٹرل ہیں، اب ساری چیزیں سامنے آ گئی ہیں، یہ منصوبہ 2021 کی گرمیوں میں بن گیا تھا۔

جی این این کے پروگرام ’خبر ہے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ پلان پہلے ہی بن گیا تھا، اب تو ساری چیزیں سامنے آ گئی ہیں، شروع میں کافی شک تھے کہ کیا ہو رہا ہے، ہمیں سمجھ نہیں آرہا تھا ایک بات جنرل (ر) باجوہ کہتے تھے، ایک گراؤنڈ پر ہو رہی تھی، ایجنسز ہمارے لوگوں کو توڑ رہی تھیں لیکن جنرل (ر) باجوہ کہہ رہے تھے کہ ہم نیوٹرل ہیں، اب ساری چیزیں سامنے آ گئی ہیں، یہ منصوبہ 2021 کی گرمیوں میں بن گیا تھا۔

عمران خان نے دعویٰ کیا کہ کام شروع ہو گیا تھا، یعنی حسین حقانی کو ہماری حکومت میں ہائیر کیا گیا، اور اسے جنرل (ر) باجوہ نے ہائیر کیا، جس نے امریکا میں پوری مہم چلائی کہ عمران خان امریکا مخالف ہے، اور جنرل (ر) باجوہ کی تعریفیں کیں، حسین حقانی کی ٹوئٹ بھی ہے، ہمیں تو پتا ہی نہیں تھا کہ ہماری حکومت میں دفتر خارجہ کے نیچے حسین حقانی کو اکتوبر 2021 میں ہائر کیا تھا، جب سے یہ سازش شروع ہوئی، اس کے ساتھ سی آئی اے کا بھی کوئی آدمی تھی، ہمارے دورے میں بطور لابسٹ ہائیر ہوا تھا وہ میرے خلاف امریکا میں کام کر رہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے تو یہ بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ہوا کیا؟ یہ کہنا شروع ہو گئے کہ میں جنرل (ر) فیض کو آرمی چیف لگانا چاہتا ہوں، میں نے اس حوالے سے کبھی سوچا ہی نہیں تھا، میں نے سنا کہ اس وجہ سے آرمی چیف بننے کی دوڑ میں شامل امیدوار میرے خلاف ہو گئے، مجھے اس کا بھی اندازہ نہیں تھا، یہ گیم چلائی گئی جس کی مجھے پوری طرح سمجھ نہیں آئی۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ بعد ازاں، آہستہ آہستہ سمجھ آنا شروع ہوا کہ اس کے پیچھے پورا پلان تھا، اور پلان یہی تھا کہ شہباز شریف کو لانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شاہ ذین بگٹی جو ان کی اجازت کے بغیر کھانا نہیں کھاتا، جب وہ گیا تو ہمیں آخر میں واضح ہوا کہ ہمیں ہٹانے کا ان کا پلان بنا ہوا ہے۔

سابق وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ ایک دم جنرل (ر) باجوہ کہنا شروع ہو گئے کہ معیشت کو ٹھیک کریں، احتساب بھول جائیں اور این آر او کی باتیں شروع ہو گئیں، کہنے لگے چھوڑیں آپ کیوں پڑے ہوئے ہیں؟ کیونکہ سمجھوتا ہو گیا تھا، ان کا سمجھوتا یہ تھا کہ کیسز سے پیچھے ہٹ جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں جنرل (ر) باجوہ پر بھروسہ کرتا تھا، میں سوچتا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ میری طرح سوچ رہی ہوگی، اگر کرپشن سے ملک بیٹھتا ہے تو اسٹیبلشمنٹ کو وہی درد ہوگا جو مجھے ہے کیونکہ ان لوگوں کے تو پیسے باہر پڑے ہیں، ان دو بڑے خاندانوں کو اسٹیک ہی پاکستان میں نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کرکٹ میں انگلینڈ سے اچھی خبر بھی: عبدالقادر کی شاندار سینچری، پاکستان انڈر 19 نے میزبان ٹیم کیخلاف ون ڈے122 رنز سے جیت لیا

ایوب اسٹیڈیم کوئٹہ میں کھلاڑیوں میں کھیلوں کا سامان اور کٹس تقسیم، نوابزادہ جمال رئیسانی کی شرکت

بھارتی صحافی کا وار خالی گیا، ملائیشین وزیراعظم کا پاکستان پر دہشتگردی کا الزام ماننے سے صاف انکار

رضا اللہ کا شاندار ٹیسٹ ڈیبیو: 90 سے زائد رنز اور 4 وکٹوں کے ساتھ خاص فہرست میں شامل

پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ محض عالمی حالات نہیں بلکہ حکومتی نااہلی کا بھی نتیجہ ہے، شاہد آفریدی

ویڈیو

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز دوبارہ سیاسی طور کیوں متحرک ہوئے ؟

نئے صوبوں پر بحث سیمینارز میں نہیں، پارلیمنٹ میں ہوگی، تمام سیاسی جماعتیں اور صوبائی قیادت مل کر معاملہ طے کریں گی، رانا ثنا اللہ

رضااللہ کا کرکٹ سے جنون، گھر سے چھپ کے کھیلنے جاتے تھے، بھائی کی وی نیوز سے گفتگو

کالم / تجزیہ

راجا جی ریل کا ایک پرانا سفر

اے قائد ہم شرمندہ ہیں

کیا آپ کا بچہ دوست بنا رہا ہے؟