بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیا، سیلاب کا خطرہ

بدھ 16 اگست 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت نے 2 ڈیموں سے دریائے ستلج میں 2 لاکھ 25 ہزار 663 کیوسک پانی چھوڑ دیا ہے۔ جس کی وجہ سے دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے، اور قرب و جوار کے علاقے زیر آب آ سکتے ہیں۔

ترجمان پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق بھارت نے پونگ ڈیم سے ایک لاکھ 41 ہزار کیوسک اور بھاکرا ڈیم سے 83 ہزار703 کیوسک پانی دریائے ستلج میں چھوڑا ہے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق ہری کے پتن سے ایک لاکھ 25 ہزار کیوسک تک پانی پاکستانی حدود میں داخل ہونے کا امکان ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ ڈی جی پی ڈی ایم اے عمران قریشی کی ہدایت پر دریائے ستلج پر واقع اضلاع کے ڈی سیز کو ٹیلی فون کرکے متوقع سیلابی خطرے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ 23 اگست تک مون سون بارشوں کا سلسلہ بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔ مسلسل مون سون بارشوں سے دریائوں میں پانی کی سطح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، دریائے سندھ میں تربیلا، کالاباغ اور چشمہ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘