حسان نیازی کو جناح ہاؤس حملہ کیس میں ٹرائل کے لیے فوج کے حوالے کیا گیا ہے، پنجاب پولیس

جمعہ 18 اگست 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب پولیس کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کو بتایا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے گرفتار بھانجے بیرسٹر حسان خان نیازی کو جناح ہاؤس حملہ کیس میں تحقیقات اور مقدمہ کے لیے فوج کے حوالے کیا گیا ہے۔

بیرسٹر حسان نیازی کی بازیابی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ میں ان کے والد حفیظ اللہ نیازی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے بعد عدالت نے پنجاب پولیس کو حکم دیا تھا کہ ملزم کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

پنجاب پولیس نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب غلام سرور نہنگ کی وساطت سے لاہور ہائیکورٹ میں اپنا جواب جمع کرادیا ہے، جس کے مطابق بیرسٹر حسان نیازی کو انوسٹی گیشن اور ٹرائل کے لیے ملٹری کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

پولیس رپورٹ کے مطابق حسان خان نیازی جناح ہاؤس حملہ کیس میں نامزد اور مرکزی ملزمان میں شامل ہیں۔ پولیس نے قانونی کاروائی مکمل کی حسان نیازی کو اشتہاری قرار دلوایا۔ پولیس نے حسان نیازی کو خیبر پختونخوا سے گرفتار کیا۔

لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیرسٹر حسان نیازی کو کمانڈنگ افسر کی درخواست پر ٹرائل کےلیے ملٹری کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آزاد کشمیر حکومت سازی: اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب آج، کون بنے گا وزیراعظم؟ نام فائنل کرلیا گیا

مولانا کیا چاہتے ہیں؟

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز ارکان اسمبلی سے ملاقاتیں کیوں کررہی ہیں، کیا کوئی خاص وجہ ہے؟

مولانا ڈیزل اور یہودی ایجنٹ کے القابات: کیا فضل الرحمان اور عمران خان کا ایک اسٹیج پر آنا کارکنوں کے کو قبول ہوگا؟

پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے 25 اگست کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا

ویڈیو

فیلڈ مارشل دنیا کو تباہی سے بچانے کے مشن پر، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی راہیں جدا؟ مولانا کا یہودی ایجنٹ سے غیر فطری اتحاد

جیل رولز کسی بھی قیدی کو پرائیویٹ اسپتال سے علاج کی اجازت نہیں دیتے: سینیئر وکلا

بلوچستان کا طالب علم اے آئی کی مدد سے انسانوں کو نئی زندگی فراہم کرے گا؟

کالم / تجزیہ

مولانا کیا چاہتے ہیں؟

کیا شہباز حکومت توہینِ عدالت کے ’جرم‘ میں گھر جا سکتی ہے؟

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا