مرتضی بھٹو قتل کیس: نامزد ملزمان کی بریت کیخلاف درخواست کی 14 برس بعد سماعت

بدھ 23 اگست 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مرتضی بھٹو قتل کیس میں نامزد ملزمان کی بریت کے خلاف دائر درخواست پر 14 برس بعد سندھ ہائیکورٹ میں ابتدائی سماعت میں درخواست گزار کے وکلا کی جانب سے وکالت نامے جمع کرائے گئے ہیں۔

سابق وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو کے 42 سالہ بیٹے میر مرتضی بھٹو کے ملازم نور محمد گوگا نے ملزموں کی بریت کے خلاف 2010 میں اپیل دائر کی تھی، جس پر آج سندھ ہائیکورٹ میں ابتدائی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکلاء پیر مجید دانو، ظہیر سومرو اور سجاد عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔

وکلاء کے پینل نے مدعی نور محمد گوگا کی جانب سے وکالت نامےعدالت میں جمع کرائے، جس کے بعد عدالت عالیہ نے مرتضٰی بھٹو قتل کیس میں نامزد ملزمان کی بریت کے خلاف دائر درخواست کی سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ 20 ستمبر 1996 کو سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے بھائی میر مرتضی بھٹو کو کراچی میں ان کی رہائش گاہ 70 کلفٹن سے کچھ فاصلہ پر مبینہ پولیس مقابلہ میں ساتھیوں سمیت ہلاک کردیا گیا تھا۔ دسمبر 2009 میں ماتحت عدالت نے ان کے قتل کے مقدمہ میں نامزد 20 پولیس افسروں کو بری کردیا تھا۔

ماتحت عدالت نےسابق چیف آئی بی مسعود شریف، سابق ڈی آئی جی پولیس شعیب سڈل کو بری کردیا تھا۔ مرتضی بھٹو قتل کیس میں نامزد ایک ملزم انسپکٹرحق نواز سیال نےخودکشی کرلی تھی، تاہم عدالت نے سابق آئی جی واجد درانی، سابق ایڈیشنل آئی جی پولیس شاہدحیات اور دیگر کو بھی بے گناہ قرار دے دیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

چین کی اہم دریا سے سمندر تک نہر کی تعمیر مکمل، ستمبر میں کھولنے کی تیاری

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں