کاروبار کے فروغ کے لیے ریگولیٹری اداروں کی ڈیجیٹلائزیشن یقینی بنائی جائے، سمیع سعید

بدھ 6 ستمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نگراں  وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی اور خصوصی اقدامات محمد سمیع سعید نے کہا ہے کہ ریگولیٹری اداروں کی ڈیجیٹلائزیشن کو یقینی بنایا جائے تاکہ ک ملک میں کاروبار اور نئے اسٹارٹ اپس شروع ہو سکیں۔

پاکستان بزنس پورٹل کے مجوزہ قانون پر ذیلی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا نگراؓں وزیر نے کہا کہ ملک میں  سازگار کاروباری ماحول پیدا کرنے کے لیے موجودہ حکومت بھرپور اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت دی کہ وہ ریگولیٹری اداروں کی ڈیجیٹلائزیشن کو یقینی بنائیں تاکہ ک ملک میں کاروبار اور نئے اسٹارٹ اپس شروع ہو سکیں۔

محمد سمیع سعید نے کہا کہ کاروبار کرنے میں آسانی کے لیے ریگولیٹری اداروں کی ڈیجیٹلائزیشن حکومت کی  اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اس موقع پر متعلقہ وزارتوں کو ملک میں سازگار کاروباری ماحول بنانے،  بزنس کمیونٹی کو مکمل سہولیات اور کاروباری تحفظ دینے بھی ہدایت بھی جاری کی۔

واضح رہے کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) ملکی معیشت کو بحال کرنے کے لیے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کے لیے قائم کی گئی تھی جو پاکستان کے اہم شعبوں جن میں دفاعی پیداوار، زرعی اور لائیو سٹاک، معدنیات اور کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں اور مختلف شعبوں میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔

نگراں وزیر کا کہنا تھا کہ ملک میں سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے کے لیے مقامی کاروبار کی جدید کاری اور ریگولیشن کے لیے حکومت کا پرعزم ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم نے قلیل مدتی اقدامات پر توجہ دینے کے لیے پہلے ہی اقتصادی بحالی پر کابینہ کمیٹی قائم کر دی ہے۔

اجلاس کے دوران بورڈ آف انویسٹمنٹ نے مجوزہ قانون کے اہم خدوخال پر روشنی ڈالتے ہوئے تفصیلی بریفنگ دی۔

بورڈاف انویسٹمنٹ کے حکام کا کہنا تھا کہ مجوزہ قانون سرکاری محکموں کی طرف سے تجویز کردہ قواعد و ضوابط کے نقشے کے لیے رجسٹری کے قیام کے لیے ایک قانونی مینڈیٹ فراہم کرتا ہے اور پھر غیر ضروری ضوابط کو ختم کرنے جسے آسان بنانے کے مقصد کے ساتھ سرمایہ کاری کو راغب کرنے، محسوس کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے ضروری عالمی بہترین طریقوں کے ذریعے ان ضوابط کی ضرورت کا تجرباتی طور پر جائزہ لیتا ہے۔

انہوں نے اجلاس کو مزید بتایا کہ اس قانون کے نفاذ سے معیشت کے لیے کئی فائدے ہوں گے، جن میں سرمایہ کاری میں اضافہ، روزگار کی تخلیق اور معاشی نمو شامل ہے۔ اس سے عالمی منڈی میں ہماری مسابقت کو بہتر بنانے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے میں بھی مدد ملے گی جو ایک مستحکم اور قابل پیشن گوئی ریگولیٹری ماحول کی تلاش میں ہیں۔

اجلاس میں سیکریٹری وزارت خزانہ، سیکریٹری بورڈ آف انویسٹمنٹ، جوائنٹ سیکریٹری وزارت تجارت، سینیئر جوائنٹ سیکریٹری پاور ڈویژن اور لا ڈویژن کے نمائندے بھی موجود تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عثمان طارق کا ایکشن آئی سی سی قوانین کے مطابق ہے، بھارتی امپائر کا اعتراف، انڈین ٹیم میں خوف کا عالم

حکومت عالمی قوتوں کی پراکسی بننے کی کوشش نہ کرے، حافظ نعیم اور مولانا فضل الرحمان کی مشترکہ پریس کانفرنس

سوئنگ سلطان وسیم اکرم سیالکوٹ اسٹالینز کے صدر مقرر

بنگلہ دیش کے اپوزیشن اتحاد کا اجلاس: صحت مند سیاست کے فروغ کی ضرورت پر زور

مخصوص ڈاکٹر کے معاملے پر پی ٹی آئی سپریم کورٹ جائے، حکومت مداخلت نہیں کرے گی، رانا ثنا اللہ

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

تہذیب اور نظریہ: ایک بنیادی مغالطہ