چترال حملے کے بعد پاکستان کے سخت اقدامات: دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی: پکس رپورٹ

اتوار 1 اکتوبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جانی نقصان میں اضافے کے باوجود ستمبر 2023 کے دوران  پاکستان میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی نوٹ کی گئی ہے۔ اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک، پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (پکس) کے حالیہ اعدادوشمار 34 فیصد کمی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ستمبر میں دہشت گردی کے 65 واقعات رونما ہوئے جن میں 136 افراد مارے گئے جبکہ 144 زخمی ہوئے۔ اگست میں 99 حملے ہوئے تھے جو کہ نومبر 2014 کے بعد کسی ایک ماہ میں سب سے زیادہ حملے تھے۔ گوکہ ستمبر 2023 میں اگست کے مقابلے میں حملوں کی تعداد میں کمی آئی ہے تاہم یہ اب بھی مارچ 2015 کے بعد کسی ایک ماہ میں سب سے زیادہ حملے ہیں۔

ستمبر میں مجموعی جانی نقصان میں اضافے کی بنیادی وجہ مستونگ بلوچستان میں ہونے والا خود کش حملہ تھا جس کی وجہ سے گزشتہ ماہ عام شہریوں کے جانی نقصان میں 87 فیصد اضافہ ہوا۔ گزشتہ ماہ مجموعی طور پر 84 عام شہری مارے گئے جبکہ اگست میں یہ تعداد 45 تھی۔

جبکہ سیکیورٹی فورسز کے جانی نقصان میں 43 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اگست میں  فورسز کے 56 اہلکاروں نے وطن پر جان قربان کی تھی جبکہ یہ تعداد ستمبر میں 26 رہی۔ ستمبر میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 37 فیصد اضافہ اور ان کارروائیوں کے دوران عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں میں حیران کن طور پر 96 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

سیکورٹی فورسز نے کم از کم 47 مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جبکہ 46 کو گرفتار کیا۔ اس کے برعکس اگست میں 24 عسکریت پسندوں کو ہلاک اور 69 کو گرفتار کیا گیا۔ چترال حملے کے بعد آپریشنل سطح پر سیکیورٹی فورسز جبکہ سفارتی سطح پر حکومتی اقدامات دہشت گردی کے واقعاات میں کمی کی وجہ رہے۔

صوبائی سطح پر، خیبر پختونخوا میں 23 عسکریت پسندوں کے حملے ہوئے، جن کے نتیجے میں 34 افراد  مارے گئے اور 73 زخمی ہوئے۔ کے پی کے قبائلی اضلاع (سابقہ فاٹا) میں عسکریت پسندوں کے 17 حملے رپورٹ ہوئے، جن میں 19 افراد مارے گئے اور 18 زخمی ہوئے۔ بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے 20 حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں 77 افراد مارے گئے اور 46 زخمی ہوئے۔

سندھ میں چار عسکریت پسندوں کے حملوں کی اطلاع دی گئی، جس کے نتیجے میں 5 افراد  مارے گئے اور 2 زخمی ہوئے، جبکہ آزاد کشمیر میں ایک عسکریت پسند حملے کی اطلاع دی گئی جس میں ایک شخص مارا گیا۔

مزید برآں، 2023 کے پہلے 9 مہینوں میں 489 عسکریت پسندانہ حملے ہوئے، جن میں 763 افراد مارے گئے اور 1105 زخمی ہوئے۔ یہ اعداد و شمار 2022 کے پورے پچھلے سال کے مقابلے میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں نمایاں 29 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکی ویزا اب مزید مہنگا اور سخت؟ 20 ہزار ڈالرتک بانڈ کی شرط نافذ

سری لنکا پریمیئر لیگ میں پاکستان کے 2 نئے اسٹار کرکٹرز کی انٹری، شاہین آفریدی دستبردار

محسن نقوی کے خیالات سے بڑی حد تک اتفاق، اصلاحات کا آغاز اپنی وزارت سے کریں، وزیر دفاع خواجہ آصف کا مشورہ

سمندر میں شکاری خود شکار بن گیا؟ آکٹوپس نے شخص کو دبوچ لیا، حیران کن ویڈیو سامنے آگئی

’ہنسنا منع ہے‘ کے میزبان تابش ہاشمی کا بڑا اعلان، جیو نیوز سے علیحدگی، مداحوں کے لیے جذباتی پیغام

ویڈیو

سمندر میں شکاری خود شکار بن گیا؟ آکٹوپس نے شخص کو دبوچ لیا، حیران کن ویڈیو سامنے آگئی

فواد خان، راحت فتح علی اور بلال مقصود دوبارہ ایک ساتھ، ’ پاکستان آئیڈل ‘ کی شاندار واپسی

آسکر یافتہ آئرش گلوکار گلین ہینسارڈ موٹر سائیکل حادثے میں جاں بحق

کالم / تجزیہ

غزہ کے بچوں کی دلدوز شاعری   

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟