زلزلے کے بعد زندگی:  پانچویں جماعت کی کشمیری طالبہ نے معذوری کا مقابلہ کیسے کیا؟

منگل 10 اکتوبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ثمینہ پانچویں جماعت کی طالبہ تھیں جب 8 اکتوبر 2005 کی صبح ہولناک زلزلے کی صورت میں آزاد کشمیر پر قیامت ٹوٹی۔ مظفرآباد کے نواحی گاؤں ڈنہ گن چھتر سے تعلق رکھنے والی ثمینہ نے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے تو اپنے سوتے ہوئے والد کو اٹھانے گھر کے اندر گئیں۔

اتنی دیر میں کچے مکان کی چھت گر گئی اور وہ ملبے تلے دب گئیں۔ انہوں نے بہت آوازیں دیں مگر مدد کو آنے والا کوئی نہیں تھا۔ کافی دیر بعد ان کے والد نے اپنے ہاتھوں سے ہی ملبہ ہٹانا شروع کیا، اس کوشش میں ان کے ہاتھوں کی کھال اتر گئی مگر انہوں نے کوشش جاری رکھی۔ آخر کار وہ ملبے کے نیچے دبی ثمینہ کو نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔

ثمینہ کی ریڑھ کی ہڈی پر ضرب آئی تھی۔ انہیں علاج کے لیے راولپنڈی لے جایا گیا لیکن کچھ عرصے بعد انہیں علم ہوا کہ اب وہ ساری عمرچل نہیں سکیں گی۔ اس سفاک حقیقت نے جیسے ان کی زندگی یک لخت ختم کرکے رکھ دی۔

2 سال تک وہ پر امید رہیں کہ علاج جاری ہے اور شاید وہ ٹھیک ہو جائیں۔ مگر رفتہ رفتہ ان کی امیدوں کے تمام چراغ بجھ گئے لیکن ثمینہ نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے بھرپور زندگی گزارنے کا تہیہ کیا اور والد کی وفات کے بعد اکیلے رہ جانے والے بھائی کا دست و بازو بننے کی ٹھانی۔

ثمینہ کی جرات آموز داستان ایم ڈی مغل کی اس ویڈیو رپورٹ میں!

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خیبر پختونخوا میں حکومت کی تبدیلی، کیا غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز ہو رہا ہے؟

پشاور میں تجاوزات کے خلاف آپریشن چھٹے روز میں داخل،400 سے زائد غیر قانونی تعمیرات مسمار

امریکا کا مقامی سمندری خوراک کے لیے خصوصی لیبل متعارف کرانے کا اعلان

حرمین شریفین ہماری ریڈلائن، مکہ دفاعی معاہدے سے مخالف قوتوں کو پریشانی لاحق ہے، مولانا عبدالخبیر آزاد

پاکستان میں کم عمر خواتین بریسٹ کینسر کا شکار کیوں ہو رہی ہیں؟ خاموش گلٹی بھی خطرے کی گھنٹی

ویڈیو

حرمین شریفین ہماری ریڈلائن، مکہ دفاعی معاہدے سے مخالف قوتوں کو پریشانی لاحق ہے، مولانا عبدالخبیر آزاد

پاکستان میں کم عمر خواتین بریسٹ کینسر کا شکار کیوں ہو رہی ہیں؟ خاموش گلٹی بھی خطرے کی گھنٹی

مالاکنڈ: ڈھنڈہ کا سرکاری پرائمری اسکول کھنڈرمیں تبدیل، بطور ’کچرا کنڈی‘ استعمال باقی

کالم / تجزیہ

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں

یورپ کی جین زی اتنے غصے میں کیوں ہے؟

باغ جل رہا ہے