معروف قوال، شاعر اور موسیقار عزیز میاں کی 23 ویں برسی پر زندگی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان کی ناقابل فراموش خدمات پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔
عزیز میاں 17 اپریل 1942 کو دہلی میں پیدا ہوئے، اصل نام عبدالعزیز تھا اور میاں ان کا تکیہ کلام تھا، جو وہ اکثر اپنی قوالیوں میں بھی استعمال کرتے تھے، جو بعد میں ان کے نام کا حصہ بن گیا۔ تقسیم ہند کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ ہجرت کر کے پاکستان منتقل ہوئے اور لاہور میں سکونت اختیار کی۔

انہوں نے لاہور کے داتا گنج بخش اسکول سے 16 سال کی تربیت حاصل کی اور پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اردو ادب، عربی اور فارسی میں ڈگریاں حاصل کیں۔ عزیز میاں کو شاعری پڑھنے میں کچھ ایسی مہارت حاصل تھی جو سامعین پر گہرا اثر چھوڑ جاتی تھی۔
عزیز میاں نے اللہ ہی جانے کون بشر ہے، تیری صورت، شرابی میں شرابی سمیت سینکڑوں قوالیاں گا کر شہرت کی بلندیوں کو چھوا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں 1989 میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا، عزیز میاں 6 دسمبر 2000 کو ایران کے دارالحکومت تہران میں یرقان کی وجہ سے خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔

اپنی قوالی کی وجہ سے مشہور عزیز میاں 23 برس گزرنے کے باوجود آج بھی مداحوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔













