سال 1988ء میں گورنر بلوچستان میجر (ر) ایم موسیٰ نے انتخابات کے ایک ہفتے بعد وزیراعلیٰ ظفر اللہ جمالی کے مشورے پر اسمبلی تحلیل کر دی۔
اگست 1988 میں ضیاء الحق کی وفات اور پھر نومبر میں ملک کے چوتھے انتخابات کے بعد جمہوریت کے پنپنے کی امید جاگی ہی تھی کہ محض 12 دن بعد بلوچستان اسمبلی توڑنے کا اعلان کر دیا گیا۔
آج ہی کے روز یعنی 15 دسمبر 1988ء کو بلوچستان کے گورنر کے جنرل (ر) محمد موسیٰ نے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ظفر اللہ جمالی کے مشورے پر بلوچستان اسمبلی توڑنے کا اعلان کیا۔ بعض مبصرین کے مطابق گورنر نے ظفر اللہ جمالی کی بجائے نواز شریف کی ایما پر اسمبلی توڑی تھی کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ بینظیر بھٹو بلوچستان میں گورنمنٹ بنائیں۔
ظفر اللہ جمالی بلوچستان کے نگران وزیراعلیٰ تھے اور انہوں نے بینظیر کی حمایت سے چند ہی روز قبل اسپیکر کے کاسٹنگ ووٹ کی بنیاد پر وزارت تشکیل دی تھی۔ تاہم ابھی انہیں صوبائی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا باقی تھا۔ بلوچستان اسمبلی توڑے جانے کے اس اقدام کا ملک بھر میں بڑا شدید ردعمل ہوا اور چند ہی دنوں میں حکومت کے اس اقدام کو بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔
19 جنوری 1989ء کو فل کورٹ نے بلوچستان اسمبلی کی تنسیخ کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں پر سماعت شروع کی اور 4 دن بعد یعنی 22 جنوری کو اسمبلی بحال کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ عدالت نے اپنے متفقہ اور مختصر فیصلے میں کہا کہ اسمبلی کی برخاستگی کا حکم غیر قانونی اور غیر آئینی تھا۔ اس فیصلے کے بعد بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر نے 5 فروری 1989ء کو صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جس میں سردارا اکبر خان بگٹی کو صوبہ کا وزیرا علیٰ منتخب کیا گیا۔
2007ء میں آج کے دن صدر پرویز مشرف نے ایمرجنسی اٹھائی، عبوری آئینی آرڈر (پی سی او) کو منسوخ کیا اور صدارتی فرمان کے ذریعے ترامیم کے بعد 1973 کے آئین کو بحال کیا۔
آج کے دن سال 1840ء میں نپولین کی باقیات کو سینٹ ہیلینا سے لاکر پیرس میں دفنایا گیا۔
آج کے روز 1977ء میں پاکستانی کرکٹر مدثر نذر نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ کی سست ترین سنچری بنائی۔
آج کے روز سال 1997ء میں عالم اسلام علامہ امین احسن اصلاحی لاہور میں انتقال کر گئے۔
2011ء میں ایئر مارشل نور خان راولپنڈی میں انتقال کر گئے۔
آج کے دن 2017ء میں سپریم کورٹ نے عمران خان کو عوامی عہدہ رکھنے کے لیے اہل قرار دیا جبکہ جہانگیر ترین کو نااہل قرار دیا۔














