2 مہینے میں پلاننگ کرنے کی ہدایت، ’یہ کینسر اسپتال بن رہا ہے یا 10 مرلے کا گھر؟‘

منگل 5 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ویلنشیا ٹاؤن  کے قریب  پنجاب کا پہلا سرکاری کینسر اسپتال  بنانے کا اعلان کردیا۔  اسپتال کے لیے  دنیا بھر سے بہترین اسپیشلسٹ ڈاکٹربلانےکی ہدایت جاری کی۔ مریم نواز کے اس اقدام پر صارفین نے ان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو شوکت خانم اسپتال کے خلاف ٹرینڈ چلاتے تھے جبکہ چند صارفین کا کہنا تھا کہ لاہور میں پہلے سے کئی کینسر اسپتال موجود ہیں اس لیے یہ اسپتال کہیں اور بنانا چاہیے۔

سوشل میڈیا صارف اشعر باجوہ نے مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ اس میں شاپنگ پلازا اور ہوٹل بھی بنا دیں اور اس کو آج سے ہی شروع کریں، یہ پرائم جگہ ہے، دو مہینے میں پلان فائنل ہونا چاہیے، ان کا مزید کہنا تھا کہ 2 مہینے میں اچھا آرکیٹیکٹ 10 مرلے کا نقشہ نہیں دیتا اور انہیں اسپتال، ہوٹل اور شاپنگ مال کی تختی چاہیے۔

صارف نے کہا یہ وہی لوگ ہیں نہ جو شوکت خانم ہسپتال کے خلاف ٹرینڈز چلاتے تھے اور جن کا کینسر آج بڑھا ہے ؟

اینکر امیر عباس نے کہا کہ مریم نواز صاحبہ کا لاہور میں کینسر اسپتال بنانا صرف اور صرف عمران خان اور ان کے بنائے شوکت خانم کا توڑ نکالنا ہے ورنہ لاہور میں تین اسپتال (شوکت خانم، انمول اور کیئر پلس) صرف اور صرف کینسر کے علاج کے لیے وقف ہیں اور اس کے علاوہ لاہور میں حمید لطیف، نیشنل اسپتال سمیت کئی اسپتالوں میں کینسر اور اس سے متعلق آپریشنز کئے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کینسر اسپتال ضرور بنائیں لیکن جہاں پہلے ہی اتنے اسپتال ہیں وہیں ایک اور اسپتال بنانا صرف تختِ لاہور کی سوچ ہے۔ ڈیرہ غازی خان، بہاولپور یا میانوالی میں بناتے جہاں کے لوگ دھکے کھا کر لاہور پہنچتے ہیں۔ مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے امیر عباس نے کہا کہ آپ وزیراعلی تو بن گئیں لیکن کیا آپ جانتی ہیں کہ شہرکاری کتنا بڑا بم ہے اور کیا آپ جانتی ہیں کہ پہلے آپ کے والد اور چچا اور اب آپ کے ایسے فیصلوں سے یہ بم اور کتنا بھیانک ہوتا جائے گا؟

ایک صارف نے لکھا کہ اعلان تو کینسر اسپتال بنانے کا کیا گیا ہے مگر تیاری شاپنگ پلازہ اور ہوٹل کی شروع کر دی گئی ہے۔

ایک ایکس صارف نے عمران خان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ تمام لوگ جانتے ہیں کہ عمران کے بنائے گئے کینسر ہسپتال کا کوئی ثانی نہیں کیونکہ یہ سرکاری خزانے سےنہ ہی بنایا گیا اورنہ ہی چلایا گیا۔ یہ اپنی نوعیت کاواحد کینسر ہسپتال ہے جہاں پر 75% مریض مفت سٹیٹ آف دی آرٹ سہولیات سے مستفید ہوتےہیں۔ اچھاہے حکومتی خزانےسے جب مکمل ہو کر چلایا جائے گیا تو لگ پتہ جائے گا۔

واضح رہے کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ  مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب کے پہلے سرکاری اسپتال میں کینسر کے مریضوں کا مفت علاج ہوگا۔ کینسر اسپتال میں مریضوں کے علاج کے لیے بہترین ڈاکٹر اورجدید ترین مشینری لائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

راولاکوٹ دھرنے میں ٹی ٹی پی اور ایکشن کمیٹی کا مبینہ گٹھ جوڑ، پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش

سائرہ عطا لسبیلہ ڈویژن کی پہلی کمشنر مقرر، بلوچستان میں خواتین کی قیادت کا نیا سنگِ میل

آزاد کشمیر انتخابات: میرپور ڈویژن میں کانٹے کا مقابلہ، ن لیگ 8 سیٹوں پر آگے، پیپلز پارٹی کو 5 پر برتری حاصل

ویڈیو

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان