آغا شیراز پاکستانی ٹیلی ویژن کے ایک شاندار اداکار ہیں جو پی ٹی وی کے کئی مشہور ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں۔
مزید پڑھیں
ان کے قابل ذکر ڈراموں میں ڈگڈگی، جانے انجانے، منا الیکٹریشن، تم اجنبی ہو اور دیگر شامل ہیں۔ وہ مشہور ڈرامہ سیریل بلبلے کی متعدد اقساط میں بھی نظر آئے۔
آغا شیراز اپنی میجک ٹرکس کے لیے بھی مشہور ہیں جنہیں وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھیلتے رہتے ہیں۔ وہ اکثر مداحوں کے لیے آگاہی ویڈیوز بھی بناتے رہتے ہیں۔
وہ مختلف ٹاک شوز میں بھی نظر آتے ہیں اور فی الحال اداکاری کا کوئی پروجیکٹ نہیں کر رہے۔
حال ہی میں انہیں پی ٹی وی ہوم کی رمضان ٹرانسمیشن میں دیکھا گیا۔ شو کے دوران انہوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے ایک مافوق الفطرت واقعے کے بارے میں بات کی جس نے ان کے بقول زندگی میں ان کی مدد کی۔

آغا شیراز نے سنہ 2019 میں پیش آنے والے ایک واقعے کا تذکرہ کیا جب وہ کراچی کے علاقے سی ویو (ساحل سمندر کا علاقہ) کی ایک مسجد میں عصر کی نماز پڑھ رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ’جب میں عصر کی نماز پڑھ کر مسجد کے صحن میں آیا تب تک سب لوگ جاچکے تھے پھر میں وہیں دعا مانگنے لگا تو اس وقت کسی نے میرے کندھے پر تھپکی دی میں نے برابر میں دیکھا تو ایک شخص مجھ سے کہہ رہا تھا کہ تو جو مانگ رہا ہے وہ تجھے ملے گا نہیں‘۔
آغا شیراز نے کہا کہ پھر اس شخص نے مجھ سے کہا کہ تم اس وقت دنیاداری کے لیے مسجد میں آئے ہو اللہ کی محبت میں نہیں جب تم اللہ کے لیے آؤگے جو مانگوگے وہ دے گا اور مانگنے سے پہلے دے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس شخص نے ان سے کہا کہ دوبارہ وضو کرکے نماز پڑھو اور پھر وہ دعا مانگو جس کی تمہیں ضرورت ہے وہ قبول ہوگی اور پھر دوبارہ (گناہوں والی زندگی کی جانب) مڑ کر مت دیکھنا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت میں واقعی ایک خاص دعا مانگ رہا تھا جو میرے لیے بیحد ضروری تھی کیوں کہ اس وقت کورونا کی وبا تھی اس وجہ سے کام بند اور مالی مشکلات تھیں۔ انہوں نے کہا کہ تاہم میں نے اس شخص سے کہا کہ مجھے دعا مکمل کر لینے دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پھر انہوں نے صرف درود شریف پڑھ کر برابر میں دیکھا تو وہ شخص غائب تھا حالاں کہ مسجد کا صحن اتنا بڑا تھا کہ وہاں سے کسی کا اتنی جلدی چلا جانا ممکن نہیں تھا۔
آغا شیراز نے کہا کہ مسجد کے صحن کے ایک کونے میں مؤذن کھڑے تھے میں نے ان سے اس شخص کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں گیا تو انہوں نے کہا کہ میں خود بھی حیران تھا کہ آپ (اغا شیراز) باتیں کس سے کر رہے ہیں۔ آغا شیراز نے بتایا کہ پھر مؤذن مسجد نے انہیں اس موضوع پر امام مسجد سے بات کرنے کو کہا اور میں امام مسجد کے پاس چلا گیا۔
آغٖا شیراز نے بتایا کہ امام مسجد نے مجھ سے کہا کہ میں آپ کو ایک اہم بات بتاتا ہوں، جنات عصر کے وقت اس مسجد میں آکر اپنی جماعت کرتے ہیں اور میرا خیال ہے کہ آپ کو ابھی جو ہدایت ملی ہے آپ اس پر عمل کریں۔ ان کے مطابق امام مسجد کا کہنا تھا کہ گزشتہ 20 برسوں میں آپ دوسرے شخص ہیں جس سے ان جنات میں سے کوئی مخاطب ہوا ہے اس کا مطلب ہے کہ اللہ آپ کے لیے کوئی بھلائی چاہتا ہے لہٰذا آپ بالکل ویسا ہی کریں جیسا آپ سے کہا گیا ہے۔

آغا شیراز نے کہا کہ پھر انہوں نے دوبارہ وضو کیا اور اللہ سے کہا کہ یا اللہ میرا مسجد میں آنے کا مقصد اگر پورا ہوجاتا ہے تو پھر میں توبہ کرلوں گا اور اپنی پچھلی زندگی والی بری عادات ترک کردوں گا۔ پھر انہوں نے نماز دہرائی اور پھر دعا کے لیے ہاتھ ابھی اٹھائے ہی تھے کہ ان کے فون کی گھنٹی بج گئی۔
وہ فون اسی شخص کا تھا جس پر ان کے 15 لاکھ روپے ادھار تھے اور وہ مسلسل غائب تھا اور اس کا فون بھی بند رہتا تھا اور انہی پیسوں کے حصول کے لیے دعا مانگنے وہ اس دن مسجد آئے تھے۔
آغا شیراز نے اس شخص کا نام لے کر کہا کہ میں نے اس کی کال اٹینڈ کی تو اس نے کہا کہ آپ کہاں ہیں میں نے کہا فلاں مسجد میں ہوں اس نے کہا کہ 15 منٹ رکیں میں آرہا ہوں پھر مقررہ وقت میں آگیا اور مجھ سے معذرت کی کہ وہ مشکلات میں تھا ملک سے باہر تھا اس لیے فون بھی بند تھا یہ کہہ کر اس نے پیسے ان کے حوالے کیے اور چلاگیا۔
انہوں نے بتایا کہ گھر جاکر انہوں نے اس شخص کو دوبارہ فون کیا تو فون پھر بند تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پر انہیں تشویش ہوئی اور انہوں نے فون کمپنی میں ایک دوست سے کہہ کر اپنا فون ڈیٹا نکلوایا تو مذکورہ کال سے پہلے اور بعد میں والدہ اور اہلیہ کی کالز کا ریکارڈ تو تھا لیکن درمیاں میں اس شخص کی کال کا کوئی ریکارڈ ان کے ڈیٹا میں سرے سے نہیں تھا یعنی اس نمبر سے کوئی کال آئی ہی نہیں تھی اور وہ فون آج تک بند ہے۔
آغا شیراز نے کہا کہ اس دن کے بعد سے میں نے پھر اپنی کوتاہیاں کبھی نہیں دہرائیں الغرض توبہ کرلی۔ ان کے مطابق اس کے بعد سے ان کی زندگی بدل گئی اور اللہ سے ایک روحانی رابطہ بھی استوار ہوگیا۔

















