پیرس سے 5 گنا اور دنیا کے سب سے بڑے قابل تجدید توانائی منصوبے کی تعمیر

ہفتہ 23 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں سورج کی روشنی اور ہوا کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کا سب سے بڑا پاور پلانٹ تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یہ پاور پلانٹ پیرس کے رقبے سے 5 گنا بڑا ہے جسے خلا سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ پاور پلانٹ سوئٹزرلینڈ جیسے ملک کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہوگا۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق، 200 مربع میل رقبے پر پھیلا بجلی پیدا کرنے کا یہ منصوبہ 20 ارب ڈالر کی لاگت سے مغربی ہندوستان کی ریاست گجرات کے ایک صحرائی علاقے میں تعمیر کیا جا رہا ہے۔

قابل تجدید توانائی کے اس منصوبے کو اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ (ایجیل) تعمیر کر رہی ہے۔ یہ آئندہ 5 سال میں مکمل ہو جائے گا اور دنیا کا سب سے بڑا قابل تجدید توانائی کا پارک کہلائے گا جو بھارت کے ایک کروڑ 60 لاکھ گھروں کو روشن کرسکے گا۔

ایشیا کے دوسرے امیر ترین شخص گوتم اڈانی کے بھتیجے اور اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ (ایجیل) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ساگر اڈانی کا کہنا ہے، ’یہ منصوبہ ایک اتنے بڑے علاقے میں تعمیر کیا جا رہا ہے جہاں جنگلی حیات، درخت، پودے اور کوئی آبادی نہیں، ایسی زمین کا اس سے بہتر استعمال اور کیا ہوسکتا تھا۔‘

قابل تجدید توانائی کے اس پارک کی کامیابی بھارت کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ بھارت اپنی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کے ساتھ ساتھ آلودگی میں کمی اور ماحولیاتی اہداف کو پورا کرنے کے لیے گزشتہ چند برسوں سے کافی سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے کیونکہ بھارت میں اب بھی کوئلے سے 70 فیصد بجلی پیدا کی جاتی ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے 2021 میں اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ رواں دہائی کے آخر تک بھارت میں 50 فیصد بجلی کی ضروریات شمسی توانائی اور ہوا سے پیدا کی جائے گی، اور 2070 تک بھارت کاربن کا نیٹ زیرو اخراج  کا ہدف بھی حاصل کر لے گا۔

اس عزم کے تحت بھارتی حکومت نے 2030 تک 500 گیگا واٹس نان فوسل فیول بجلی پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا جبکہ ملک کی بجلی پیدا کرنے والی سب سے بڑی کمپنی اپنے قابل تجدید توانائی پارک کے ذریعے 30 گیگا واٹ بجلی پیدا کرکے مقررہ ہدف کا 9 فیصد فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

30 سالہ ساگر اڈانی کا کہنا ہے، ’اس منصوبے میں ناکامی کا آپشن موجود نہیں، انڈیا کے پاس اتنے بڑے پیمانے پر منصوبے شروع کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔‘

بھارت دنیا کا سب سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والا ملک ہے جہاں روز بروز اس کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بھارت میں 80 فیصد بجلی کوئلے اور ٹھوس بائیوماس سے پیدا کی جاتی ہے۔ کھپت کی بنیاد پر آئندہ 30 برسوں میں بھارت کو دنیا میں سب سے زیادہ بجلی درکار ہوگی۔

واضح رہے کہ اڈانی گروپ بھارت کا کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والا اور کوئلے کی کانوں کا سب سے بڑا ڈویلپر اور آپریٹر ہے۔ اس گروپ نے آسٹریلیا میں بھی کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ لگایا ہے جہاں اسے ماحولیاتی آلودگی کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے اور اس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

ساگر اڈانی کا کہنا ہے، ’یہ حقیقت ہے کہ بھارت کوئلے سے بجلی پیدا کرتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بھارت بڑے پیمانے پر قابل تجدید توانائی پیدا کرسکتا ہے تو اس کا جواب ہے جی ہاں، اس میں کوئی شک نہیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں، 4 نئے کھلاڑی شامل،3  پلیئرز پہلی بار قسمت آزمائیں گے

ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی اور بلاتعطل فراہمی کے لیے حکومت متحرک، نئی پالیسی پر عملدرآمد شروع

پیٹرولیم لیوی ختم ہوگی یا نہیں؟ حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل

پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید کا شوہر سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ، خلع کے لیے عدالت سے رجوع

خیبرپختونخوا میں پولیس کی 10 ہزار سے زیادہ اسامیاں خالی ہونے کا انکشاف، دہشتگردی کے خلاف نئی حکمت عملی تیار کرلی گئی

ویڈیو

سُرتال اکیڈمی کے بچوں کی بھارت سمیت دنیا بھر میں دھوم

اسموگ کے خاتمے کے لیے لاہور میں اینٹی اسموگ گنز کا دائرہ وسیع، لاک ڈاؤن کا کوئی منصوبہ نہیں

ترقی کے سفر میں لیہ کب شامل ہوگا؟ شہری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے منتظر

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟