ہائیکورٹ کے ججوں کا خط: پاکستان بار کونسل کا چیف جسٹس سے تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ

بدھ 27 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان بار کونسل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھنے کے الزامات کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا۔

پاکستان بار کونسل نے اپنے ایک اعلامیہ میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے 3 سینیئر ججوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے۔

اعلامیہ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے الزامات کی تحقیقات لازمی ہیں، عدلیہ کی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔

پاکستان بار کونسل نے کہا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل ایسے الزامات کی تحقیقات کا فورم نہیں ہے۔ الزامات کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس پاکستان کو کمیٹی تشکیل دینی چاہیے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی اپنے اعلامیہ میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ بار عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھتی ہے اور اس کے خلاف کوئی ایکشن برداشت نہیں کرے گی۔

پنجاب بار کونسل کا موقف بھی سامنے آ گیا

ادھر پنجاب بار کونسل کا ججز کی جانب سے لکھے گے خط پر موقف سامنے آ گیا ہے۔

پنجاب بار کونسل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کا خط آزاد اور خودمختار عدلیہ کے وجود پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل کامران بشیر مغل اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پیر عمران اکرم نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان ہائیکورٹ کے ججوں کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط کا نوٹس لے۔

سیکریٹری پنجاب بار کونسل کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق بار کے عہدیداروں نے کہاکہ خفیہ اداروں کی جانب سے عدالتی معاملات میں مداخلت ناقابل قبول ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پنجاب بار کونسل ملک میں آئین و قانون کی بالادستی اور آئینی اداروں کے تحفظ کے لیے ہراول دستے کا کردار ادا کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں 6 ججز کا خط:سپریم کورٹ میں ججز کا فل کورٹ اجلاس ختم،اعلامیہ جلدمتوقع

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھا گیا ایک خط سامنے آیا تھا۔

ہائیکورٹ کے ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط میں موقف اختیار کیا تھا کہ عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مداخلت اور ججز پر اثرانداز ہونے کے معاملے پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔

خط لکھنے والوں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں۔

خط کی کاپی سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو بھی بھجوائی گئی تھی، جبکہ خط میں عدالتی امور میں ایگزیکٹو اور ایجنسیوں کی مداخلت کا ذکر کیا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد پولیس کارروائی کے دوران فائرنگ، ڈکیت گینگز کے 2 ارکان زخمی، سرچ آپریشن جاری

وزیراعظم شہباز شریف کا پُرامن باہمی طرزِ زندگی کے عالمی دن پر امن، رواداری اور انسانی حقوق کے فروغ کا عزم

پی سی بی چیئرمین محسن نقوی کو آئی سی سی اجلاس میں شرکت کی دعوت

مزید10کیسز کا سامنا، عبایا میں ملبوس انمول پنکی کو سٹی کورٹ پہنچا دیا گیا

حکومت کا بجٹ میں اضافی محصولات اور پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا فیصلہ، عالمی مالیاتی ادارے سے معاہدہ

ویڈیو

خیبر پختونخوا حکومت کے ترقیاتی دعوؤں پر عوام کی رائے

بھارت میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی آوازیں: یہ تبدیلی کیوں اور کیسے آئی؟

کوکین کوئین کے خلاف اگر منشیات اور اسلحہ رکھنے کا جرم ثابت ہوجائے تو مجموعی طور پر کتنی سزا ہوسکتی ہے؟

کالم / تجزیہ

میڈیا اور پروپیگنڈا

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں

کبھی آپ نے ‘ناکامی’ کی تقریب منائی ہے؟