عالمی اقتصادی فورم کا اختتامی سیشن، وزیراعظم نے غزہ کا معاملہ اٹھا دیا، شرکا کی جانب سے داد

پیر 29 اپریل 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ غزہ میں امن کے بغیر دنیا میں مستقل امن قائم نہیں ہوسکتا۔ فلسطین میں قیام امن ناگزیر ہے۔

عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے جب غزہ کے بارے میں بات کی تو ہال میں موجود سامعین نے تالیوں کی گونج میں جواب دیا۔

وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان معیشت کی بہتری کے لیے بنیادی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، ہمیں موسمیاتی تبدیلی جیسے بڑے چیلنج کا سامنا ہے، عالمی منڈی میں مہنگائی کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ کروڑوں کی نوجوان آبادی ہمارا قیمتی اثاثہ ہے، جدید ٹیکنالوجی اور فنی تربیت کی فراہمی کے ذریعے ہم انہیں اپنا روزگار شروع کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔

مہنگائی نے ترقی پذیر ممالک کی کمر توڑ دی

شہباز شریف نے کہاکہ یوکرین میں تنازع کے باعث دنیا بھر میں اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں اور پاکستان صنعت اور زراعت کے لیے ضروری خام مال درآمد اور خرید نہیں سکتا۔ جبکہ اس مہنگائی نے ترقی پذیر ممالک کی کمر توڑ دی ہے۔

وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جس کا موسمیاتی تبدیلی کی وجوہات سے کوئی تعلق نہیں، اخراج میں ہمارا حصہ ایک فیصد کا بھی نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان میں تباہ کن سیلابوں کی وجہ سے زمین کا بڑا حصہ زیر آب آگیا اور لاکھوں گھر اور جانور بہہ گئے جبکہ سیلابی پانی سے ملک بھر میں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں پھیل گئیں۔

انہوں نے کہاکہ ان کی حکومت نے سیلاب متاثرین کی امداد اور بحالی کے لیے قلیل وسائل سے 100 ارب روپے خرچ کیے ہیں، ہم دوست ممالک بشمول سعودی عرب، خلیجی ممالک، برطانیہ، امریکا اور دیگر کئی ممالک کے شکر گزار ہیں جنہوں نے مشکل وقت میں تعاون کیا۔

وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان کی معیشت کو سیلاب کی وجہ سے 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا اور پھر اس نے جنیوا اور دیگر مقامات پر بین الاقوامی اداروں سے رابطہ کیا اور قدرتی آفت کی وجہ سے مہنگے نرخوں پر قرضے لینے پڑے جو اس کی غلطی نہیں تھی۔

انہوں نے کہاکہ ہمارے ملک کو اس طرح سے نشانہ بنایا گیا جو میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا تھا۔

وزیراعظم نے ملکی ترقی کے لیے اپنے خاندان کی مثال دی

انہوں نے پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے عزم کے اظہار کے لیے اپنے خاندان کی مثال دی۔

شہباز شریف نے کہاکہ ان کے والد اور ان کے بھائی غیر منقسم ہندوستان میں ایک غریب کسان کے بیٹے تھے اور وہ تقسیم کے وقت لاہور، پاکستان ہجرت کر گئے تھے، سخت محنت کے ساتھ 1965 میں ان کے والد اور خاندان نے پاکستان میں اسٹیل انجینیئرنگ کی سب سے بڑی کمپنی قائم کی لیکن 2 جنوری 1972 کو اسے نیشنلائز کردیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ ان کے خاندان نے کھڑے ہو کر چیلنج قبول کیا اور اگلے 18 مہینوں میں کمپنی قائم کردی، مزید قومیانے سے بچنے کے لیے 6 نئی چھوٹی فیکٹریاں لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔

وزیر اعظم نے کہاکہ اس سال کے شروع میں ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد وہ معاملات کو ترتیب دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

بجلی چوری کی وجہ سے پاور سیکٹر تباہی کا شکار ہے

پاکستان کو درپیش مسائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بجلی کی بڑے پیمانے پر چوری کی وجہ سے پاور سیکٹر تباہی کا شکار ہے اور اشرافیہ کا کلچر ان لوگوں کے ساتھ مل رہا ہے جو اس کے مستحق نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایجنسیوں سے قابل اعتماد ان پٹ ملنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ سطح کے ایسے افسران کو ہٹایا جو بہتر کام نہیں کر رہے تھے اور ان کا ریکارڈ درست نہیں تھا، ہمارا ریونیو سیکٹر زبوں حالی کا شکار ہے اور جو ہمیں سالانہ ریونیو میں ملتا ہے ہم سسٹم میں لیکیج کی وجہ سے 4 گنا نقصان اٹھاتے ہیں، جب تک ہم خامیوں کو دور نہیں کریں گے ہم ریونیو کی وصولی میں اپنے مسائل سے بچ نہیں سکیں گے۔

انہوں نے کہاکہ مہنگائی اور قرضوں کے جال کے مسائل بھی ہیں جو کہ ’موت کا جال‘ ہے۔

وزیراعظم پاکستان کی مدد کرنے پر سعودی قیادت کے مشکور

وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ میں معاشی چیلنجز پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے لیے سعودی قیادت کی حمایت کو دل سے تسلیم کرتا ہوں۔

انہوں نے ماضی میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں پاکستان کے لیے شاندار تعاون پر برطانیہ کے محکمہ برائے بین الاقوامی ترقی کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ٹھوس ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور بامعنی کفایت شعاری پر کام کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نیپال، تبت میں تباہ کن سیلاب: ہلاکتیں 469 تک پہنچ گئیں، مزید سیلاب کا خدشہ

سانحات کے بعد معطلیاں، تحقیقات اور پھر خاموشی؛ سانحہ پمز نے خامیاں بے نقاب کردیں

موڈیز کے ہاں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری، ملک کو کیا معاشی فوائد حاصل ہوں گے؟

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا، ماہر

پیپلز پارٹی آئندہ ماہ بہاولپور اور ہزارہ کو صوبے بنانے کی آئینی ترمیم لائے گی، سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی

ویڈیو

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا، ماہر

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

پمز سانحہ، سیکریٹری ہیلتھ ماضی کے ملزم، بے ایل اے کی دہشتگرد خواتین پر انعام

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ