پاکستان اور چین کا آزاد کشمیر میں جاری پن بجلی منصوبے جلد مکمل کرنے کا عزم

منگل 14 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی چائنہ تھری گورجز کارپوریشن (سی ٹی جی) کے ایگزیکٹو نائب صدر وو شینگ لینگ اور چائنا تھری گارجز انٹرنیشنل لمیٹڈ (سی ٹی جی آئی) کے چیئرمین وو شینگلنگ سے منگل کو بیجنگ میں ملاقات ہوئی جس میں ترقیاتی منصوبوں پر غورخوض ہوا۔

محمد اسحاق ڈار نے حکومت پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے پر روشنی ڈالی اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) بالخصوص انفراسٹرکچر کی ترقی اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں مواقعوں کا جائزہ شیئر کیا۔

نائب وزیر اعظم نے کروٹ اور جھمپیر سمیت پاکستان میں سی ٹی جی کے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبے ماڈل پروجیکٹس کے طور پر کام کرتے ہیں۔؎

اسحاق ڈار نے قابل تجدید توانائی کو پاکستان میں نئی ​​حکومت کی طرف سے شناخت کیے گئے ترجیحی شعبوں میں سے ایک قرار دیا۔

چیئرمین سی ٹی جی آئی نے پاکستان کے ساتھ سی ٹی جی کی مسلسل وابستگی کا اعادہ کیا۔

ملاقات کے دوران فریقین نے آزاد جموں و کشمیر میں کوہالہ اور محل ہائیڈرو پاور پراجیکٹس جیسے جاری پن بجلی منصوبوں کی تکمیل میں تیزی لانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران میں نئی کشیدگی، برینٹ خام تیل 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

افغانستان: خواتین پر کریک ڈاؤن، سرکاری لباس ضابطے کی خلاف ورزی کے الزام میں درجنوں گرفتار

بلوچستان میں ڈیجیٹل گورننس کا فروغ، ای ڈومیسائل نظام کا آغاز

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات نے نئی تاریخ رقم کر دی، پہلی بار 4.5 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

’تحفظ کی قیمت وصول کریں گے‘ ٹرمپ کا سعودی عرب، یو اے ای، قطر اور بحرین سے ایران جنگ کے اخراجات کا مطالبہ

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم

برداشت کی بھی حد ہوتی ہے

میسی کے گول سے 45 برس بعد کھلنے والا سفارتخانہ