افغانستان میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے قائم مقام وزیر محمد خالد حنفی نے مغربی شہر ہرات میں خواتین کے لباس سے متعلق کریک ڈاؤن کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام خواتین کے ’وقار اور عزت‘ کے تحفظ کے لیے کیا گیا، جبکہ اس پر ہونے والی تنقید کو انہوں نے پروپیگنڈا قرار دیا۔
ہرات میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد خالد حنفی نے کہا کہ ’ہرات میں سب کچھ ٹھیک ہے، یہاں نہ کوئی ظلم ہے اور نہ ہی بربریت، ہماری بہنوں کے حقوق محفوظ ہیں۔‘
مزید پڑھیں:افغانستان میں آزادانہ انتخابات ہوں تو طالبان شکست کھا جائیں گے، احمد مسعود کا دعویٰ
رواں سال جون کے اوائل میں طالبان حکومت کی اخلاقی پولیس نے درجنوں خواتین کو سرکاری لباس ضابطے کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔ حکام کے مطابق ان خواتین نے جسم کو مکمل طور پر ڈھانپنے والا چادر یا برقع نہیں پہن رکھا تھا۔
Businesses in the Afghanistan’s northwest city of Herat are reporting a sharp downturn in customers after a Talib@n morality police crackdown on women’s dress code emptied the city’s markets. #Asiaone #asiaonenews #Afghanistan #DressCode #WomenRights pic.twitter.com/GvaxXke8lh
— ASIA ONE NEWS (@AsiaOne_News) July 12, 2026
زیرِ حراست خواتین میں طبی امدادی تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کی ایک خاتون اسپتال ملازمہ بھی شامل تھیں، جس پر تنظیم نے سخت مذمت کا اظہار کیا تھا۔
مزید پڑھیں:ازبکستان نے افغانستان سے آنے والا منشیات بردار ڈرون مار گرایا
اقوام متحدہ کے مطابق ان پابندیوں کے خلاف ہونے والے ایک نادر احتجاج کو طاقت کے ذریعے منتشر کیا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 2 افراد ہلاک ہوئے۔
افغانستان میں خواتین کے لیے گھر سے باہر نکلتے وقت قریباً پورا جسم ڈھانپنا لازمی ہے۔ اگرچہ بہت سی خواتین عبایا، اسکارف اور چہرہ ڈھانپنے والا نقاب استعمال کرتی ہیں، تاہم ضروری نہیں کہ وہ برقع یا چادر ہی پہنیں۔













