امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز 5 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں میں آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے۔
بین الاقوامی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت 4.06 ڈالر، یعنی 5.34 فیصد اضافے کے بعد 80.07 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 3.74 ڈالر یا 5.24 فیصد اضافے کے ساتھ 75.15 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہونے کا اعلان کر دیا، مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق
تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بھیجے جانے والے تمام بحری کارگو پر امریکا کو 20 فیصد ادائیگی کی جائے گی، یہ اعلان ایران کے ساتھ حالیہ فوجی جھڑپوں کے تناظر میں سامنے آیا۔
دوسری جانب ایران کی اعلیٰ مشترکہ عسکری قیادت نے واضح کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کے انتظام میں واشنگٹن کی مداخلت قبول نہیں کرے گی۔
BREAKING: US oil prices surge +9% after President Trump announces the US is reimposing its blockade of the Strait of Hormuz, with ships now required to pay a fee equal to 20% of their cargo’s value to transit the waterway. pic.twitter.com/34sNm9ID2Z
— The Kobeissi Letter (@KobeissiLetter) July 13, 2026
ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے ایران کی اجازت کے بغیر آبنائے سے گزرنے کی کوشش کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ادھر اقوام متحدہ کے بحری امور کے ادارے نے ٹرمپ کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے استعمال ہونے والی آبناؤں پر کسی قسم کی لازمی فیس عائد کرنے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں، اس لیے ایسی کسی بھی تجویز کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز کا بحران، جنگ بندی خطرے میں پڑنے کے خدشات سے تیل مہنگا ہو گیا
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں طویل مدت تک رکاوٹ کا خدشہ برقرار رہا تو تیل درآمد کرنے والے اور برآمد کرنے والے ممالک اس اہم بحری گزرگاہ پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔

سرمایہ کاری بینک گولڈمین سیکس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں پائپ لائنوں کی گنجائش میں توسیع کے ذریعے 2028 کے اختتام تک جنگ سے قبل خلیجی ممالک کی 60 فیصد سے زائد تیل برآمدات کو آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
بینک کے اندازے کے مطابق 2027 کے اختتام تک آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے والی پائپ لائنوں کی گنجائش میں یومیہ 38 لاکھ بیرل جبکہ 2028 کے اختتام تک مجموعی طور پر یومیہ 73 لاکھ بیرل کا اضافہ ہوگا، جس سے متبادل برآمدی صلاحیت 2028 کے آخر تک 1 کروڑ 40 لاکھ بیرل یومیہ سے تجاوز کر جائے گی۔













