ایف آئی اے نے ’اپنا‘ جعلی ڈائریکٹر گرفتار کرلیا

بدھ 17 جولائی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے مبینہ طور پر جعلی ڈائریکٹر (ایف آئی اے) بن کر دھوکا دہی اور فراڈ کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزم محمد خالد تاج نے خود کو ایف آئی اے کا جعلی ڈائریکٹر ظاہر کیا تھا اور اس نے اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹ پر ڈائریکٹر اسلام آباد زون کی یونیفارم میں اپنی تصاویر بھی لگائی ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ پولیس کے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، آئی جی نے ایف آئی اے سے مدد طلب کرلی

ایف آئی اے ترجمان کا کہنا ہے کہ ملزم نے خود کو ایف آئی اے کا ڈائریکٹر ظاہر کر کے متعدد افراد کو بلیک میل اور ان سے فراڈ کیا۔

ترجمان نے بتایا کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے ایک خصوصی چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دی گئی تھی جس نے اسے اڈیالہ روڈ راولپنڈی سے گرفتار کرلیا۔

مزید پڑھیے: ایف آئی اے کی کارروائی، جعلسازی سے بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے والا مسافر ایجنٹ سمیت گرفتار

ایف آئی اے ترجمان نے کہا کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے جدید وسائل (موبائل فون ٹریسنگ) کو بروئے کار لایا گیا اور اب اس سے تفتیش کی جارہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں ماضی جیسی کشیدگی نہیں، نظام مشترکہ انداز میں چل رہا ہے، عامر الیاس رانا

امریکا کے ایران پر  نئے فضائی حملے ، متعدد مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور

شارجہ سے کراچی آنے والا پاکستانی کارگو کمپنی کا طیارہ لاپتا، تلاش کا عمل شروع

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ترکیہ پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان

ویڈیو

موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں ماضی جیسی کشیدگی نہیں، نظام مشترکہ انداز میں چل رہا ہے، عامر الیاس رانا

خیبرپختونخوا حکومت کی اپنے لیے مراعات، نئے قانون میں خاص کیا ہے؟

خیبر پختونخوا اسمبلی ایک دہائی بعد بھی مکمل پیپر لیس کیوں نہ بن سکی؟

کالم / تجزیہ

سندھ طاس: بھارت کی اسٹریٹیجک مس کیلکولیشن

فیفا فٹبال میں چھپی صدی کی کہانی

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش