موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں ماضی جیسی کشیدگی نہیں، نظام مشترکہ انداز میں چل رہا ہے، عامر الیاس رانا

بدھ 8 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار عامر الیاس رانا نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی نظام ہمیشہ مختلف شکلوں میں طاقت کے مراکز کے درمیان ہم آہنگی یا کشمکش کے ساتھ چلتا رہا ہے تاہم موجودہ دور میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ماضی جیسی محاذ آرائی دکھائی نہیں دیتی، بلکہ دونوں مل کر نظام چلا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو آگے لے جانے کے لیے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر، تعلقات میں دراڑ کی باتیں بے بنیاد

وی نیوز کے خصوصی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عامر الیاس رانا نے کہا کہ انہوں نے سنہ 1992 سے اسلام آباد میں صحافت کا آغاز کیا اور اس دوران متعدد حکومتیں بنتے اور ٹوٹتے دیکھیں۔ ان کے مطابق ماضی میں حکومتوں اور ریاستی اداروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آتے تھے جبکہ موجودہ صورتحال مختلف ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم کے درمیان اختیارات کا شدید تنازع موجود تھا۔ اس وقت اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیوں اور اقتدار کی رسہ کشی کو صحافی روزانہ قریب سے دیکھتے تھے۔ ان کے مطابق نواز شریف اپنی سیاسی قوت کے بل پر فیصلے کرنا چاہتے تھے جبکہ صدر مملکت اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے تھے جس کے باعث مسلسل کشیدگی رہی۔

عامر الیاس رانا نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے دونوں ادوار میں بھی مرکز اور پنجاب کی سیاست کے باعث شدید سیاسی محاذ آرائی دیکھنے میں آئی جبکہ بعد کے ادوار میں بھی مختلف حکومتیں طاقت کے مراکز کے ساتھ تعلقات کے اتار چڑھاؤ کا شکار رہیں۔

انہوں نے سابق وزیراعظم عمران خان کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مکمل ہم آہنگی تھی، تاہم بعد میں اختلافات پیدا ہوئے۔ ان کے مطابق عمران خان کی بڑی سیاسی غلطی پنجاب میں عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ مقرر کرنا تھی کیونکہ اگر زیادہ تجربہ کار سیاستدان کو ذمہ داری دی جاتی تو شاید سیاسی صورتحال مختلف ہوتی۔

مزید پڑھیے: پی ٹی آئی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے برابری کی سطح پر مذاکرات کی خواہشمند لیکن رکاوٹ کون؟

عامر الیاس رانا نے کہا کہ موجودہ حکومت میں فوج اور حکومت کے درمیان کسی بڑے اختلاف کی اطلاعات نہیں ہیں۔ ان کے بقول وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت قومی معاملات پر ایک صفحے پر نظر آتے ہیں اور یہی موجودہ نظام کی بنیادی خصوصیت ہے۔

کابینہ میں ممکنہ تبدیلیوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کے علم کے مطابق ایسی کوئی حتمی تجویز موجود نہیں۔ البتہ وزیراعظم کو آئینی اختیار حاصل ہے کہ وہ ضرورت محسوس کریں تو کسی بھی وقت کابینہ میں ردوبدل کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود موجودہ حکومت نے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے سمیت مختلف شعبوں کو ریلیف دیا، جو ماضی کے مقابلے میں ایک مختلف پیشرفت ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے مذاکرات کے ذریعے کچھ ایسے اقدامات کرائے جنہیں آئی ایم ایف عموماً قبول نہیں کرتا۔

پیپلز پارٹی کے حکومتی کردار پر گفتگو کرتے ہوئے عامر الیاس رانا نے کہا کہ اتحادی سیاست میں سیاسی جماعتیں اپنی پارلیمانی قوت کے مطابق حصہ لیتی ہیں۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کو جو آئینی اور سیاسی عہدے ملے ہیں وہ سیاسی مذاکرات اور اتحاد کا نتیجہ ہیں نہ کہ کسی قسم کا تحفہ۔

مزید پڑھیں: اسٹیبلشمنٹ بند کمروں میں فیصلے کررہی ہے، حکومت صرف انگوٹھا لگاتی ہے، مولانا فضل الرحمان

عامر الیاس رانا نے کہا کہ پاکستان کی سیاست ہمیشہ مفاہمت، مذاکرات اور سیاسی سودے بازی کے ذریعے آگے بڑھتی رہی ہے اور موجودہ اتحاد بھی اسی سیاسی عمل کا حصہ ہے۔

پنجاب کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی حکومت اور سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے دور کا تقابل کیا جائے تو واضح فرق نظر آتا ہے۔ ان کے مطابق پنجاب میں گورننس بہتر ہوئی ہے جبکہ دیگر صوبوں میں بھی صحت، تعلیم، سیاحت اور بنیادی سہولیات کی بنیاد پر کارکردگی کا باقاعدہ موازنہ ہونا چاہیے۔

آزاد کشمیر کی سیاست کے حوالے سے عامر الیاس رانا نے کہا کہ وہاں مختلف سیاسی جماعتیں اپنی سیاسی ضرورتوں کے مطابق مؤقف اختیار کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی بھی اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے مختلف معاملات پر دباؤ ڈال رہی ہے جو سیاسی عمل کا حصہ ہے۔

تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان ممکنہ مذاکرات پر گفتگو کرتے ہوئے عامر الیاس رانا نے کہا کہ اگر دونوں فریق سنجیدگی سے مذاکرات کی طرف آئیں تو سیاسی ڈیڈلاک کم ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت متعدد مرتبہ مذاکرات کی پیشکش کر چکی ہے، تاہم عملی پیش رفت کے لیے دونوں جانب سے مثبت رویہ ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیے: حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک صفحے پر ہی نہیں ایک پیراگراف کا حصہ ہیں، مجیب الرحمان شامی

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی قیادت کو بھی اپنے سیاسی مستقبل اور عمران خان کے مفاد میں مذاکرات کے امکانات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تاکہ ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہوسکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp