کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) خیبرپختونخوا میں عوامی حمایت سے محرومی کے بعد بلوچستان میں جائے پناہ تلاش کررہی ہے۔ جبکہ پاکستان کا افغانستان کے لیے دو ٹوک پیغام ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے تک کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان پاک فوج کے شدید ترین ردعمل، کم ہوتی عوامی حمایت اور بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے بعد ایک دوسرے سے اشتراک پر مجبور ہوگئے ہیں۔
مزید پڑھیں: افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جائز قرار، امریکا نے پاکستان کے حقِ دفاع کی کھل کر حمایت کردی
نظریاتی طور پر ایک دوسرے سے یکسر مختلف یہ دونوں تنظیمیں اب ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے پر مجبور ہوگئی ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان اپنی دہشتگرد کارروائیوں کے لیے اسلام کا نام استعمال کرتی ہے جبکہ بی ایل اے ایک نسلی و لسانی عصبیت کے نام پر دہشتگرد کارروائیاں کرتا ہے جس کے لیے اسے پاکستان دشمن قوتوں کی حمایت اور مالی مدد حاصل ہے۔
پاکستان نے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران دہشتگردی کے خلاف فوجی کارروائیوں میں بڑی کامیابیاں سمیٹی ہیں جس سے ان دونوں تنظیموں کی استعداد کار کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ان دونوں دہشتگرد تنظیموں کا مالی معاون بھارت جبکہ زمین افغانستان کی استعمال ہوتی ہے۔
’دہشتگردی کے خاتمے تک کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے‘
پاکستانی دفترِ خارجہ اپنے کئی بیانات میں متعدد بار یہ واضح کر چکا ہے کہ دہشتگرد افغان سرزمین کا استعمال کرتے ہیں۔ جب تک اسے نہیں روکا جائے گا افغانستان کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔
دفتر خارجہ نے یہ بھی واضح کیاکہ اکتوبر 2025 تک پاکستان نے امن کے قیام کے لیے سفارتکاری کی بھرپور کوشش کی لیکن اب افغانستان کی جانب سے تحریری ضمانت کے بغیر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
اپریل میں چین کی ثالثی میں ہونے والے سہ فریقی اُرومچی مذاکرات بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے اور اس سے قبل استنبول اور دوحہ مذاکرات بھی بے نتیجہ رہے کیونکہ افغان طالبان رجیم اپنی ہٹ دھرمی کے باعث کسی بھی قسم کی تحریری ضمانت دینے پر تیار نہیں ہوئی۔
طالبان آگ سے کھیل رہے ہیں، سابق نمائندہ خصوصی برائے افغانستان
افغانستان کے لیے پاکستان کے سابق نمائندہ خصوصی آصف درانی نے اپنے ’ایکس‘ پیغام میں طالبان رجیم اور ان کے مالی معاون بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ آگ سے کھیل رہے ہیں۔
اُنہوں نے لکھا کہ طالبان کو یہ حقیقت سمجھنی چاہیے کہ انہیں عالمی سطح پر نہایت محدود قانونی اور سفارتی قبولیت حاصل ہے۔ اگر وہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے، داعش خراسان، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور 2 درجن سے زیادہ دیگر دہشتگرد تنظیموں کو پناہ فراہم کرتے رہے تو خطہ دوبارہ نائن الیون سے پہلے والی خطرناک صورتحال کی طرف جا سکتا ہے، جس کے پورے خطے کے لیے غیر متوقع اور سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اتنی ہی تشویشناک بات یہ ہے کہ بھارت ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی مالی معاونت کر رہا ہے، جبکہ طالبان حکومت ان گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں اور تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ اگر یہ پالیسیاں جاری رہیں تو کابل کی طالبان حکومت اور نئی دہلی کی ہندوتوا قیادت دونوں آگ سے کھیل رہی ہوں گی۔ تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے کہ پرتشدد پراکسی گروہوں کی سرپرستی کرنے والے بالآخر خود بھی انہی کے خطرات کی زد میں آ جاتے ہیں۔
دوست ممالک کی ثالثی کوششیں کیوں ناکام ہوئیں؟
مارچ اور اپریل 2026 میں سرحدی کشیدگی کے بعد چین کی ثالثی میں ارومچی میں پاکستان اور افغان طالبان کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے، جن کا بنیادی مقصد سرحدی کشیدگی میں کمی، جنگ بندی کے امکانات، دہشتگردی سے متعلق اعتماد سازی اور دوطرفہ رابطوں کو بحال کرنا تھا۔
اپریل میں افغان وزارت خارجہ نے ان مذاکرات کو مفید قرار دیا، تاہم کسی جامع معاہدے یا مستقل مذاکراتی فریم ورک کا اعلان نہیں کیا گیا۔
جولائی 2026 تک پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سب سے بڑا تنازع بدستور ٹی ٹی پی کا مسئلہ ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین ٹی ٹی پی کی پاکستان میں دہشتگرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جبکہ طالبان حکومت اس الزام کی مسلسل تردید کرتی آئی ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اگر مستقبل میں مذاکرات کا نیا دور ہوتا ہے تو اس میں ٹی ٹی پی اور دیگر سرحد پار عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں، سرحدی جنگ بندی اور تصادم سے بچاؤ کے طریقہ کار، انٹیلی جنس تعاون، رابطہ نظام اور تجارت کی بحالی جیسے امور سرفہرست ہوں گے۔
نئے مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا طالبان حکومت پاکستان کے سیکیورٹی خدشات، خصوصاً ٹی ٹی پی کے حوالے سے قابلِ تصدیق اور عملی اقدامات کرتی ہے یا نہیں۔ اسی لیے موجودہ سفارتی رابطوں کو ایک حتمی امن معاہدے کی جانب پیشرفت کے بجائے اعتماد سازی کے عمل کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
بلوچستان میں ٹی ٹی پی کے بڑھتے حملوں کی وجوہات ہیں، صحافی طاہر خان
افغان امور کے ماہر اور معروف صحافی طاہر خان نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور افغانستان کے مابین سفارتکاری تو بالکل بھی نہیں ہو رہی، سفارتی جمود ہے، جس طرح پاکستانی دفتر خارجہ نے کہاکہ 2021 سے لے کر 2025 کے اکتوبر تک پاکستان سفارتکاری کرتا رہا تو اِس طرح سے پاکستان نے تسلیم کیا اس وقت سفارتکاری نہیں ہو رہی۔
انہوں نے کہاکہ دوحہ ثالثی سے لے کر اُرومچی تک چین کی ثالثی کے نتائج بھی سامنے نہیں آ رہے یعنی کامیابی نہیں ملی۔ کیونکہ بنیادی مسئلہ دہشتگرد گروہوں کی کارروائیوں کا ہے جن میں کمی نہیں آ رہی۔
انہوں نے کہاکہ ممکن ہے افغانستان کے اندرونی مسائل کی وجہ سے ٹی ٹی پی نے اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی کی ہو، اور بلوچستان جہاں حکومت کو پہلے سے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے تو ٹی ٹی پی نے سوچا ہو کہ وہاں حکومت کی مشکلات میں اِضافہ کیا جائے، کیونکہ بلوچستان پاکستان کے لیے تزویراتی اور معاشی اعتبار سے انتہائی صوبہ ہے اور وہاں دو ممالک کے ساتھ پاکستان کی سرحدیں بھی ملتی ہیں۔
خیبرپختونخواہ میں ٹی ٹی پی کے لیے عوامی حمایت نہ ہونے کے باعث بلوچستان کا رُخ کیا گیا، محمود جان بابر
افغان امور پر گہری نگاہ رکھنے والے صحافی محمود جان بابر کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کے بلوچستان جانے کی وجوہات میں ایک وجہ یہ ہے کہ اب ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مل کر ساتھ میں کام کر رہے ہیں اور افغان طالبان بھی ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ خیبرپختونخوا میں ٹی ٹی پی کے لیے عوامی حمایت ختم ہوگئی ہے اس کی وجہ سے ٹی ٹی پی کا خیبرپختونخوا میں جانی نقصان زیادہ ہو رہا ہے اور بلوچستان میں وہ نسبتاً محفوظ ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان میں دہشتگردی کو سپورٹ کرنے والوں کا مفاد بھی خیبرپختونخوا سے زیادہ بلوچستان میں ہے۔ وہاں بی ایل اے بھی ہے لیکن ٹی ٹی پی کو وہاں بھیج کر زیادہ مُشکلات کھڑی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: افغانستان سے ابھرنے والے دہشتگردی کے خطرات پر پاکستان اور روس میں اہم مشاورت
محمود جان نے کہاکہ افغانستان کے ساتھ سفارتکاری ہو نہیں رہی۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ دہشتگردی ختم کی جائے۔ دوسری طرف اب افغان طالبان رجیم کے لوگوں کے پاکستان مخالف بیانات میں نرمی آ رہی ہے لیکن کچھ لوگوں کے ذاتی مسائل ہیں جیسا کہ افغان وزیر دفاع ملایعقوب جو اپنے باپ ملا عمر کی جگہ امیر بننا چاہتا تھا اور وہ نہیں بن سکا جس کے لیے وہ پاکستان کو موردِالزام ٹھہراتا ہے۔
’افغانستان کے مسئلے کا حل ایک نہیں بلکہ مختلف نوعیت کے اقدامات ہونے چاہییں ورنہ کوئی حل نہیں نکلے گا۔‘












