امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس حوالے سے اہم پیش رفت کا عندیہ دیا ہے۔
یہ اعلان انہوں نے نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کے دوران کیا۔
مزید پڑھیں: دنیا میں 8 جنگیں رکوا چکا ہوں، امید ہے روس اور یوکرین کے درمیان بھی جلد ڈیل ہو جائےگی، ڈونلڈ ٹرمپ
ڈونلڈ ٹرمپ نے رجب طیب اردوان سے ملاقات میں کہاکہ امریکا ترکیہ پر عائد پابندیوں کا خاتمہ کررہا ہے۔
یاد رہے کہ واشنگٹن نے 2020 میں روس سے ایس 400 فضائی دفاعی نظام کی خریداری کے بعد CAATSA قانون کے تحت انقرہ پر مختلف پابندیاں عائد کی تھیں۔
ان پابندیوں کے تحت ترکیہ کی پریذیڈنسی آف ڈیفنس انڈسٹریز کو امریکی برآمدی لائسنس جاری کرنے اور دفاعی سازوسامان کی فراہمی روک دی گئی تھی۔
اس کے علاوہ اس وقت کے ایس ایس بی سربراہ اسماعیل دمیر اور دیگر ترک دفاعی حکام کے اثاثے منجمد کیے گئے تھے، جبکہ ان پر ویزا پابندیاں بھی عائد کی گئی تھیں۔ امریکی مالیاتی اداروں کو بھی بعض قرضوں اور مالی معاونت کی فراہمی سے روک دیا گیا تھا۔
امریکی صدر نے اس موقع پر ترکیہ کو جدید ایف 35 لڑاکا طیاروں کی فروخت پر بھی رضامندی ظاہر کی، جسے دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ میں دنیا بھر میں 8 جنگیں رکوا چکا ہوں، اب روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ بھی رکواؤں گا۔ مجھے امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جلد ہی ڈیل ہو جائےگی۔
مزید پڑھیں: ایران سے معاہدہ ہوگا یا پھر ہم اپنا کام مکمل کریں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک بار پھر دھمکی
انہوں نے کہا کہ ترکیہ ہمارا بہترین اتحادی رہا ہے اور ترکیہ کو ایف 35 طیارے حاصل کرنے پر انہیں کوئی تشویش نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترکیہ کے روسی دفاعی نظام خریدنے پر بھی انہیں کوئی اعتراض نہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ لوگ نہیں جانتے کہ ترکیہ درحقیقت کتنا طاقتور ملک ہے اور اس کے پاس بہترین فوج موجود ہے۔














