کراچی کا سرکاری اسکول جہاں آکر تعلیم کے سوا ہر خیال ذہن میں آسکتا ہے

پیر 22 جولائی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یوں تو سیوریج کے پانی اور اہل کراچی کا بہت پرانا ساتھ ہے لیکن شہر قائد کے علاقے نارتھ کراچی میں ایک ایسا اسکول بھی ہے جہاں آکر تعلیم کے سوا ہر خیال آپ کے ذہن میں آسکتا ہے، کیونکہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے مناسب ماحول ہونا لازم ہے۔

مولانا شوکت علی پرائمری اسکول کی تعمیر 1993 میں ہوئی، اسکول کے سامنے کھیل کا بڑا میدان ہے، جہاں بچے کھیل کود میں بھی مصروف رہتے ہیں، ہزاروں کی آبادی کے لیے یہاں پر صرف ایک ہی اسکول موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں فرنیچر نہ عمارت، پبلک پارک میں انوکھا اسکول

اس پرائمری اسکول کی عمارت خستہ حالی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، جبکہ جو جگہ ٹھیک ہے وہ بھی کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔

ان دنوں موسم گرما کی تعطیلات کے باعث عمارت کے اندر جانا تو ممکن نہیں تاہم اسکول جانے کے لیے جس راستے کا بھی انتخاب کریں وہ گندے پانی سے بھرا ہوا ہے، چار دیواری ہر طرف سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جبکہ اس کے اندر ایک ضعیف عمارت چیخ چیخ کر نئی تعمیر کے لیے پکار رہی ہے۔

اسکول کی عمارت میں کتا رہائش پذیر

اسکول کے اندر ایک بلب جل رہا ہے، تاکہ ایک کتا جو اس اسکول میں رہتا ہے اسے روشنی فراہم کی جاسکے۔ تاہم اسکول کا فرنیچر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

اسکول کے احاطے میں موجود گراؤنڈ کی بات کی جائے تو یہاں گزشتہ 3 برس سے سیوریج کا پانی موجود ہے، جبکہ ساتھ ہی کچرے کا بھی ڈھیر ہے۔

یہ بھی پڑھیں کیا کوئٹہ میں سرکاری اسکول بھی ڈیجیٹل سہولیات سے لیس ہیں؟

علاقہ مکین محمد عباس کہتے ہیں کہ یہاں پر پارک ہونا چاہیے تھا جہاں بچوں کو کھیلنے کی سہولت میسر آتی، لیکن اس علاقے کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا گیا، سیوریج کا پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

’حکام سروے کرکے چلے جاتے ہیں، کام شروع نہیں ہوتا‘

ایک اور مقامی شخص آصف نے کہاکہ اسکول کی دیواریں گرچکی ہیں، اور یہ صورتحال 3 سال سے درپیش ہے، حکام سروے کرنے کے لیے آتے ہیں لیکن کام شروع نہیں ہوسکا۔

محمد عالم نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا اس عمارت کو دیکھ کر کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ اسکول ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ یہ جگہ مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب دیکھ چکے ہیں لیکن عمارت کی دوبارہ تعمیر کے لیے اقدامات نہیں کیے۔

ایسے ماحول میں بچے کیسے تعلیم حاصل کرسکتے ہیں؟

نوجوان شہریار نے کہاکہ اس اسکول کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ تعلیم کے نام پر کتنا بڑا مذاق کیا جارہا ہے، کیا اس ماحول میں بچے تعلیم حاصل کرسکتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں سندھ کی بچیاں اسکول جانے سے کیوں ڈرتی ہیں؟

شہریار نے سروے کے دوران بتایا کہ جس جگہ پر ہم کھڑے ہیں یہاں پولنگ اسٹیشن بنایا گیا تھا اس لیے یہاں پر مٹی ڈالی گئی تھی، یعنی اسکول جس مقصد کے لیے بنا وہ پورا ہو یا نہ ہو ووٹنگ کا عمل ضرور ہونا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان: منگلہ زرغون غر میں آپریشن کے دوران 35 سے زیادہ دہشتگرد ہلاک، 3 کمانڈرز گرفتار

ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے، اسے فوری اقدامات کرنا ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال

سعودی عرب میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا، عیدالاضحیٰ 27 مئی کو منائی جائےگی

ویڈیو

چین سے امریکا اور ایران تک، دنیا کا پاکستان پر اعتماد، اسلام آباد کے شہریوں کی حکومت اور پاک فوج کو خراجِ تحسین

معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے مین اسٹریم سوشل آرگنائزیشن مشن امریکا کی کوششیں

حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات جاری، آئندہ مالی سال کا بجٹ کیسا تیار ہونے جا رہا ہے؟

کالم / تجزیہ

قدم قدم سوئے حرم

میڈیا اور پروپیگنڈا

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں