خیبرمیل ایکسپریس میں پریمیئم لاؤنج ڈائننگ کار کا اضافہ

جمعرات 25 جولائی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان ریلویز نے خیبرمیل ایکسپریس میں پریمیئم لاؤنج ڈائننگ کار کا اضافہ کردیا ہے، جس سے کراچی سے لاہور تک سفر کرنیوالے مسافر استفادہ کرسکیں گے۔

ریلویز کے اعلامیہ کے مطابق نئی پریمیئم لاؤنج ڈائننگ کار میں نشستوں کو مزیدکشادہ بناتے ہوئے مسافروں کے لیے نماز کی جگہ بھی مختص کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : تیزگام ایکسپریس میں پریمیئم لاؤنج ڈائننگ کار کی سہولت کب دستیاب ہوگی؟

’ڈائننگ کار میں 40 کےقریب کھانےموجود ہوں گے، پریمیئم لاؤنج مینیو میں دیسی اوراطالوی کھانوں سمیت فاسٹ فوڈ دستیاب ہوگا، ڈائننگ کار میں بیک وقت 34 مسافر کھانا کھا سکیں گے۔‘

پاکستان ریلویز کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر عامر بلوچ کے مطابق ڈائننگ کار میں کھانوں کے اعلیٰ معیار کو یقینی بنایا جائے گا۔

مزید پڑھیں: گزشتہ 14سال میں پاکستان ریلوے کے مسافروں کی تعداد میں کتنی کمی واقع ہوئی؟

ریلوے حکام کے مطابق ستمبر تک علامہ اقبال ایکسپریس میں بھی نئی ڈائننگ کار کا اضافہ کردیا جائے گا، اس سے قبل بہاءالدین زکریااور تیزگام ایکسپریس میں پریمیم لاؤنج ڈائننگ کار کی سہولت فراہم ک جاچکی ہے۔

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

علی ظفر نے شمالی امریکا میں دھوم مچا دی، ’روشنی ٹور‘ میں 75 ہزار سے زائد مداح اُمڈ آئے

بھارت میں نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس نے ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی، ایمنسٹی انٹرنیشنل

صدر آصف علی زرداری کا کیٹی بندر پورٹ کی مربوط ترقی پر زور

انگلینڈ کے فاسٹ بولر برائیڈن کارس نائٹ کلب کے باہر ہتھکڑیوں میں پکڑے گئے

شوہر اور بیٹیوں پر تشدد کا مقدمہ: آمنہ سعید کی ضمانت منظور، اسلام آباد ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ جاری

ویڈیو

بلوچستان کا طالب علم اے آئی کی مدد سے انسانوں کو نئی زندگی فراہم کرے گا؟

ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا متبادل تیار، چینی سائنسدانوں کا کرشماتی علاج، 90 فیصد ہارٹ فیلیئر مریض صحتیاب

ٹیک ٹائکون زکربرگ نے تاریخی آئرش قلعہ خرید لیا، حقیقت اور قیمت جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

کالم / تجزیہ

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟