ہنزہ میں میراتھن ریس، شرکت کرنے والے غیر ملکی سیاح کیا کہتے ہیں؟

پیر 2 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہنزہ گوجال میں فرسٹ قراقرم میراتھن ریس کا انعقاد ہوا جس میں ملک بھر سے 3 سو سے زائد مرد و خواتین نے شرکت کی۔ اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی فورس کمانڈر کاشف خلیل اور میرِ محفل معاونِ خصوصی برائے اطلاعات ایمان شاہ تھے۔

اس موقع پر فورس کمانڈر کاشف خلیل، صوبائی وزیر غلام محمد اور معاون خصوصی برائے اطلاعات ایمان شاہ نے نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے ایتھلیٹس میں انعامات بھی تقسیم کیے جبکہ حسینی گوجال کے عمائدین نے اپنا سپاسنامہ بھی پیش کیا۔

فورس کمانڈر کاشف خلیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ گلگت بلتستان خوبصورت علاقہ ہے، یہاں کے لوگ بڑے مہمان نواز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  گلگت بلتستان اور ہنزہ میں سیاحت کے فروغ کے لیے اس قسم کےایونٹ منعقد ہونے چاہئیں تاکہ یہ علاقہ پروموٹ ہوسکے۔

 تقریب میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں اور ایتھلیٹس نے بھی میرا تھن ریس میں شرکت کی۔ انہوں نے گلگت بلتستان اور ہنزہ کو دنیا کا خوبصورت علاقہ قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یونیورسٹی آف لاہور نے آل پاکستان انٹر یونیورسٹی ویمنز فٹبال چیمپیئن شپ جیت لی

اسلام آباد ایم او یوکی تائید، مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان، سعودی عرب، مصراور ترکیہ متحد، ریجنل۔4 اجلاس کا اعلامیہ جاری

ایران لبنان میں اپنی پراکسیز کو فوری روکے ورنہ سخت جواب دیں گے، صدر ٹرمپ کی وارننگ

میری زندگی کی 2 اہم ترین شخصیات میں ایک فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں، ان کی قیادت نہ ہوتی توآج ہم یہاں نہ ہوتے، جے ڈی وینس

صدر ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت کے باعث امریکا ایران مذاکرات ممکن ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف

ویڈیو

اسلام آباد ایم او یوکی تائید، مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان، سعودی عرب، مصراور ترکیہ متحد، ریجنل۔4 اجلاس کا اعلامیہ جاری

میری زندگی کی 2 اہم ترین شخصیات میں ایک فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں، ان کی قیادت نہ ہوتی توآج ہم یہاں نہ ہوتے، جے ڈی وینس

ایران امریکا مذاکرات: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی اور ایرانی وفود سے ملاقاتیں

کالم / تجزیہ

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟