بجلی کی قیمت میں 4 روپے تک اضافے کی منظوری

جمعہ 13 جنوری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کے الیکٹرک کے لیے بجلی کی قیمت میں 4 روپے 49 پیسے تک اضافے کی منظوری دے دی۔

نیپرا نے ڈسکوز اور کے الیکٹرک کا ٹیرف یکساں کرنے کی وفاقی حکومت کی درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا اور کے الیکٹرک کے لیے بجلی کی قیمت کی مختلف کیٹگریز میں 1.49 روپے سے لے کر 4.49 روپے اضافے کی منظوری دے دی۔

نیپرا نے یہ ایڈجسٹمنٹ اکتوبر، نومبر، دسمبر 2022 اور جنوری 2023 میں استعمال کیے گئے یونٹ پر چارج کی ہے، جو جنوری سے اپریل 2023 تک 4 ماہ میں وصول کی جائے گی۔

وفاقی حکومت نے کے الیکٹرک کے ٹیرف کو ڈسکوز کے ساتھ یکساں کرنے کی درخواست بھی جمع کروائی تھی، جس پر نیپرا نے 27 دسمبر 2022 کو عوامی سماعت کی اور اب ٹیرف میں اضافے کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن کا بڑا فیصلہ ، بلدیاتی انتخابات 15 جنوری کو ہی ہوں گے

نیپرا نے ڈسکوز کے لیے مالی سال 22-2021 کی چوتھی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اوسط 3 روپے 30 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی تھی۔ وفاقی حکومت یکساں ٹیرف کے لیے کے الیکٹرک کے لیے بھی یکساں اضافے کی منظوری چاہتی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مالی مسائل حل نہ ہوئے تو بی پی ایل منعقد نہیں کریں گے، تمیم اقبال

واٹس ایپ اب کاروباری اداروں سے صارفین کے جوابات پر بھی فیس وصول کرے گا

پاکستانی کوہ پیما عاصمہ مشتاق اسپینٹک سر کرنے کے بعد انتقال کرگئیں

بی این پی رہنما مرزا فخرالاسلام عالمگیر بنگلہ دیش کے نئے صدر منتخب

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 27 پیسے اور ڈیزل ایک روپے 64 پیسے مہنگا

ویڈیو

ڈیل یا ڈھیل، حکومت نے درخواست واپس لے لی، کپتان اسپتال منتقل، اگلی منزل بنی گالہ، بلاول کی پھرتیاں

شاہی خاندان سے تعلقات بہتر ہوگئے، شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کا 6 سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپسی کا فیصلہ

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان ہوں گے، صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن متفق

کالم / تجزیہ

فیصلے کی تاریخ اور تاریخ کا فیصلہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟