تقرریاں و تبادلے: لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کردی

جمعرات 13 اپریل 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہورہائیکورٹ میں نگران حکومت پنجاب کو تقررو تبادلوں کے مکمل اختیارات دینے کے خلاف کیس میں عدالت نے الیکشن کمیشن کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کردی۔

عدالت عالیہ میں نگران حکومت پنجاب کو تقرر و تبادلوں کے مکمل اختیارات دینے کےخلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار، تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کے وکیل مبین الدین قاضی اور ظفر اقبال منگن نے دلائل دئیے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ایک ہی نوٹیفیکیشن کے ذریعے الیکشن کمیشن نے نگران حکومت پنجاب کو تقرر و تبادلوں کا مکمل اختیار دے دیا۔ الیکشن کمیشن کا اقدام الیکشن ایکٹ، ملکی قوانین اور عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی ہے۔ تقرر و تبادلوں کے لیے قانونی جواز ہونا آئینی اور قانونی تقاضا ہے۔ نگران حکومت پنجاب کو سیاسی مفادات کے لیے تقرر و تبادلوں کے مکمل اختیارات دئیے گئے۔

وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت الیکشن کمیشن کی جانب سے تقرر و تبادلوں کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دے۔

اس پرعدالت نے الیکشن کمیشن کے ذمہ دار افسر کوجواب داخل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 17اپریل تک ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

چین امریکا سے 200مسافر طیارے خریدے گا، بیجنگ کی تصدیق

’ٹرمپ موبائل‘ پر صارفین کا ڈیٹا لیک کرنے کا سنگین الزام

ایپل کا پہلا فولڈ ایبل فون نئی آئی فون لائن اپ میں تمام تر توجہ کا مرکز بننے کے لیے تیار

شہزادی ڈیانا سے شہزادہ ہیری تک، جب شاہی رازوں سے پردہ اٹھنے پر دنیا حیران رہ گئی

امریکا کا گولڈن ڈوم میزائل پروگرام عالمی عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے، روس اور چین کا انتباہ

ویڈیو

ٹرمپ کے دورۂ چین کے بعد خطے میں کسی نئی جنگ کی کوئی گنجائش نہیں: سینیٹر مشاہد حسین سید

عوام میں بجٹ ریلیف کی امیدیں بڑھ گئیں، سہیل آفریدی نے دھرنے کا راستہ کیوں بدلا؟

پاک چین دوستی علاقائی امن، ترقی اور عالمی استحکام کے لیے ناگزیر ہے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈارکا قومی اسمبلی میں خطاب

کالم / تجزیہ

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا